جہاں جہاں سے بھی جھلمل

شاہد ماکلی کی ایک اردو غزل

جہاں جہاں سے بھی جھلمل تری گزرتی ہے
دلوں کو آئنہ کرتی ہوئی گزرتی ہے

نجوم دونوں طرف صف بہ صف کھڑے ہوئے ہیں
فضائے شب سے تری پالکی گزرتی ہے

ترے بغیر ہمیں سانس تک نہیں آتی
کبھی تو اس سے بھی مشکل گھڑی گزرتی ہے

نشاط شام طلسمات کو دوام نہیں
لہو سے موج شفق عارضی گزرتی ہے

افق پہ رہتی نہیں دیر تک چمک میری
شہابی روشنی یک بارگی گزرتی ہے

یہ زندگی بھی عجب ہے کہ دوستوں کے بغیر
کبھی گزرتی نہیں ہے کبھی گزرتی ہے

بس ایک رات کا ٹکڑا ہے کہکشاں آثار
بقایا شب تو اندھیروں میں ہی گزرتی ہے

ہزار حال و مقامات سے گزرتا ہے دل
نظر سے مثنویٔ معنوی گزرتی ہے

حیات اپنے تسلسل میں ہے ابد آہنگ
کہ اک گزر گئی ہے دوسری گزرتی ہے

کثیف دل سے خوشی منعطف نہیں ہوتی
سیاہ شیشے سے کب چاندنی گزرتی ہے

بھچک کے دیکھتے ہیں بیل گاڑیوں والے
سروں سے کوئی اڑن طشتری گزرتی ہے

اگر گزرتا ہے دن مجھ میں چھ مہینوں کا
تو اتنے عرصے کی پھر رات بھی گزرتی ہے

خود اپنی آگ میں جلتی ہے اوندھے منہ گر کر
یہ کس عذاب سے دنیا تری گزرتی ہے

شراب و شہد کی نہریں یہاں نہیں بہتیں
زمیں کے باغ سے خوں کی ندی گزرتی ہے

سمے کے پردۂ سیمیں پہ کیا دکھائیں تمہیں
جو لا شعور سے بے منظری گزرتی ہے

گزار لیتے ہیں آخر گزارنے والے
حیات جیسی بھی اچھی بری گزرتی ہے

جہاں سجود میں گر جانا چاہیے اس کو
وہاں سے خلق خدا سرسری گزرتی ہے

دبوچ لیتا ہے دل کا سیاہ روزن اسے
قریب سے جو کوئی روشنی گزرتی ہے

مکان کوہ ندا کے قریب ہے شاہدؔ
سماعتوں سے نوا نت نئی گزرتی ہے

شاہد ماکلی

شاہد ماکلی

شاہد ماکلی تونسہ کے گاؤں مکول کلاں سے تعلق رکھتے ہیں۔ آپ کی تاریخ پیدائش 31 اگست 1977 ہے۔ آپ نے پنجاب یونیورسٹی لاہور، سے میٹلرجی اینڈ میٹریلز سائنس میں بی ایس سی انجینئرنگ کی ڈگری مکمل کی۔ آپ کا پہلا شعری مجموعہ ”موج“ 2000 میں شایع ہوا۔ جب کہ دوسرا مجموعہ ”تناظر“ کے نام سے 2014 میں شایع ہوا۔ اس کے علاوہ آپ معروف ادبی جریدے ”آثار“ سے بہ طور مدیر منسلک ہیں