جب انتظار کی شامیں بنانی پڑتی ہیں

لطیف ساجد کی ایک اردو غزل

جب انتظار کی شامیں بنانی پڑتی ہیں
گلی میں جھانکتی آنکھیں بنانی پڑتی ہیں

دلوں کے فاصلے باتوں سے کم نہیں ہوتے
پہاڑ کاٹ کے سڑکیں بنانی پڑتی ہیں

جدید شعر ہے مصنوعی عورتوں کا وجود
تصوّراتی کنیزیں بنانی پڑتی ہیں

خدا سے ماں سے محبت سے انحراف کے بعد
نئے یقین کی قَسمیںں بنانی پڑتی ہیں

کئی طرح کے عقائد نبھانے پڑتے ہیں
کئی طرح کی جبینیں بنانی پڑتی ہیں

ہم ایسے دیر سے گھر جانے والے لوگوں کو
ہزار طرح کی باتیں بنانی پڑتی ہیں

لطیف! دورِ جہالت کے گور کن ہیں ہم
جنہیں خداؤں کی قبریں بنانی پڑتی ہیں

لطیف ساجد

لطیف ساجد

لطیف ساجد پانچ اگست انیس سو اسی کو ونیکے تارڑ حافظ آباد میں پیدا ہوئے، دو ہزار ایک میں بطورِ سولجر آرمی میں بھرتی ہوئے دو ہزار تین میں کمانڈو کورس کے بعد ایس ایس جی چلے گئے تین سال صدر پرویز مشرف کی پرسنل سیکورٹی میں ڈیوٹی کے یو این مشن افریقہ چلے گئے ریٹائرمنٹ کے بعد حافظ آباد ذاتی کاروبار کر رہے ہیں،بچپن سے شعر کہہ رہے ہیں دو ہزار اکیس میں پہلا شعری مجموعہ دعا زاد کے نام شائع ہوا جس شمار دور حاضر کے اہم شعری مجموعوں میں ہوتا ہے