جب انتظار کی شامیں بنانی پڑتی ہیں
گلی میں جھانکتی آنکھیں بنانی پڑتی ہیں
دلوں کے فاصلے باتوں سے کم نہیں ہوتے
پہاڑ کاٹ کے سڑکیں بنانی پڑتی ہیں
جدید شعر ہے مصنوعی عورتوں کا وجود
تصوّراتی کنیزیں بنانی پڑتی ہیں
خدا سے ماں سے محبت سے انحراف کے بعد
نئے یقین کی قَسمیںں بنانی پڑتی ہیں
کئی طرح کے عقائد نبھانے پڑتے ہیں
کئی طرح کی جبینیں بنانی پڑتی ہیں
ہم ایسے دیر سے گھر جانے والے لوگوں کو
ہزار طرح کی باتیں بنانی پڑتی ہیں
لطیف! دورِ جہالت کے گور کن ہیں ہم
جنہیں خداؤں کی قبریں بنانی پڑتی ہیں
لطیف ساجد