اک خطا ہم از رہِ سادہ دِلی کرتے رہے

سیّد اقبال عظیم کی ایک اردو غزل

اک خطا ہم از رہِ سادہ دِلی کرتے رہے
ہر تبسّم پر قیاسِ دوستی کرتے رہے

ایسے لوگوں سےبھی ہم مِلتے رہے دل کھول کر
جو وفا کے نام پر سوداگری کرتے رہے

خود اندھیروں میں بسر کرتے رہے ہم زندگی
دوسروں کے گھر میں لیکن روشنی کرتے رہے

سجدہ ریزی پائے ساقی پر کبھی ہم نے نہ کی
اپنے اشکوں سے علاجِ تشنگی کرتے رہے

اپنے ہاتھوں آرزوؤں کا گلا گھونٹا کئے
زندہ رہنے کے لئے ہم خود کُشی کرتے رہے

ہر طرف جلتے رہے،بُجھتے رہے جھُوٹے چراغ
اور ہم، سامانِ جشنِ تِیرَگی کرتے رہے

حالِ دل کہہ دیں کسی سے، بارہا سوچا مگر
اِس اِرادے کو ہمیشہ مُلتوی کرتے رہے

خود کو دیتے بھی رہے ترکِ تعلّق کا فریب!
اور درپردہ ، کسی کو یاد بھی کرتے رہے

اس طرح اقبال! گزری ہے ہماری زندگی
زہرِ غم پیتے رہے، اور شاعری کرتے رہے

سیّد اقبال عظیم

سائٹ منتظم

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔