ہوئی آنکھ نم دل تڑپ کر پکارا
نہ ہم ہیں کسی کے نہ کوئی ہمارا
کیا عشق جس سے رہا نا مکمل
وظائف کئے ہیں کیا استخارہ
کیے ہیں بہت ورد چلے بھی کاٹے
مگر عشق سر سے نہ اترا تمہارا
مزاروں پہ جا کر دعائیں بھی مانگیں
وہ اک شخص پھر بھی ہوا کب ہمارا
ہمیں ڈوبنے سے نہ کوئی بچائے
کناروں سے ہم کر چکے ہیں کنارہ
چلو شاہ دلؔ بن میں کٹیا بنا لیں
چمن میں نہ ہوگا اب اپنا گزارا
شاہ دل شمس