حصار ذات

افسانچہ از منزہ گوئیندی

میرا نام ریت کے ذروں پہ لکھا گیا ۔۔ اگر کوئی سرپھری ہوا مجھے اُڑا لے گئی تو شکوہ کیسا ۔۔۔مجھے بکھرنا تھاسو بکھر گئے ۔۔ سورج سے کہو رزد غبار بکھیرے ۔۔۔ تاکہ روشنی مجھے یکجا کرے اور ایک بار پھر مجھے مجسمہ کی شکل مل جائے ۔۔۔ لیکن روح کہاں سے آئے گی ؟؟؟؟ ۔۔۔ روح جس کی تجدید کی ضمانت نہیں دی گئی ۔۔۔ روشنی کی حقیقت تو اس مسافر سے زیادہ نہیں جو کچھ دیر کے لیے سرائے میں قیام کرتا ہے ۔۔۔ اور پھر راستوں کے پیچ و خم میں گم ہو جاتا ہے ۔۔۔ میں اُس لمحہ کی تلاش میں ہوں جب میرا وجود اپنے ہونے کی گواہی دے گا ۔۔۔ اور یہ صدیوں پرانی کائنات اندھیرے میں تحلیل ہو جائے گی ۔۔۔ میرے کمرے سے باہر تا حد نظر پھیلی ہوئی کائنات میرے لیے کوئی اہمیت نہیں رکھتی ۔۔۔ میں نے ازل سے رونق کائنات کو اپنی ذات کے تعلق سے پہچاننا سیکھا ہے ۔۔۔ میری آنکھیں کمرے سے باہر چیختے اندھیرے میں دیکھ رہی ہیں ۔۔۔ جہاں ہر آدمی اپنے زخمی کاندھوں پر اپنی انا کی صلیب اُٹھائے منزل کی تلاش میں بھٹک رہا ہے ۔۔۔ میں صدیوں پرانی تنہائی کا ہاتھ تھامے شام گریاں کے دھندلکوں سے گزرنے والی ہوں ۔۔۔ مجھے اُفق کے اُس پار اُترنا ہے ۔۔۔ جہاں میری روح بے سر و سامانی کے عالم میں جانے کب سے میرا انتظار کر رہی ہے ۔

منزہ گوئیندی

منزہ انور گوئیندی

تعارف منزہ انور گوئیندی کا تعلق ادبی گھرانے سے ہے ان کے والد انور گوئیندی کا شمار مشاہیر ادب میں ھوتا ھے اور وہ اردو ادب کے بانیوں میں سے ھیں ۔ سرگودھا میں کامران مشاعرے اور کامران رسالے کے ذریعے انہوں نے ادب کی آبیاری کی ان کی وفات کے بعد یہ مسند ان کی اکلوتی بیٹی منزہ انور گوئیُندی نے سنبھالی جو ایک نامور افسانہ نگار ، کالم نگار اور شاعرہ ھونے کے ساتھ ساتھ کامران ادبی رسالہ کی مدیرہ بھی ہیں ۔ منزہ انور گوئیندی عالمی شہرت یافتہ قلمکار اور صدا کار ہیں ۔ گزشتہ بیس سال سے ریڈیو پاکستان سے منسلک ھیں اور علمی و ادبی پروگرام پیش کر رہی ھیں ۔ منزہ انور گوئیُندی کو ملکی اور بین الاقوامی سطح پر کئی ایوارڈز اور اعزازات اور میڈلز دیے جا چکے گئے ھیں ۔ حال ھی میں دورہ برطانیہ کے دوران انہیں سفیر ادب کا خطاب بھی عطا کیا گیا ۔ اور ان کے اعزاز میں سکاٹ لینڈ بین الاقوامی مشاعرے کا انعقاد بھی کیا گیا منزہ گوئیندی کے خاندان کا شمار کارکنان تحریک پاکستان میں ھوتا ھے اور اس ضمن میں انہیں سابق صدر پاکستان عارف علوی کی جانب سے گولڈ میڈل بھی دیا گیا