ہم سے کیا پوچھتے ہو ہجر میں کیا کرتے ہیں

ایک غزل از وصی شاہ

ہم سے کیا پوچھتے ہو ہجر میں کیا کرتے ہیں

تیرے لوٹ آنے کی دن رات دعا کرتے ہیں

اب کوئی ہونٹ نہیں ان کو چرانے آتے

میری آنکھوں میں اگر اشک ہوا کرتے ہیں

تیری تو جانے ،پر اے جان تمنا ہم تو

سانس کے ساتھ تجھے یاد کیا کرتے ہیں

کبھی یادوں میں تجھے بانہوں میں بھر لیتے ہیں

کبھی خوابوں میں تجھے چوم لیا کرتے ہیں

تیری تصویر لگا لیتے ہیں ہم سینے سے

پھر ترے خط سے تری بات کیا کرتے ہیں

گر تجھے چھوڑنے کی سوچ بھی آئے دل میں

ہم تو خود کو بھی وہیں چھوڑ دیا کرتے ہیں

وصی شاہ

سائٹ منتظم

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔