ہاتھ رکھو یہیں اداسی ہے

شہزاد نیّرؔ کی ایک خوبصورت غزل

ہاتھ رکھو یہیں اداسی ہے
یہ مرا دل نہیں اداسی ہے

ابتدا میں تو اتنا خوش مت ہو
مجھ میں آگے کہیں اداسی ہے

تو بھی اتنا نہیں قریب مرے
جتنی دل کے قریں اداسی ہے

دیکھ اس حسن سوگوار طرف
دیکھ کتنی حسیں اداسی ہے

اس پہ قصر خوشی نہ ٹھہرے گا
میرے دل کی زمیں اداسی ہے

رنج و بہجت تو بعد کے ہیں گماں
میرا پہلا یقیں اداسی ہے

آنکھ یا پھیلتا ہوا کاجل
شام یا سرمگیں اداسی ہے

تم اداسی کو دیکھ سکتے ہو
میں جہاں ہوں وہیں اداسی ہے

شہزاد نیّرؔ

سائٹ منتظم

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔