جہانِ رنگ و بو کی کم نصیبی دیکھئے
کہ کمپیوٹروں کا زور ہے مگر
خیال ختم ہوگئے، کلام ختم ہو گیا
عجب نظامِ آگہی کا دور ہے کہ آدمی کا احترام ختم ہو گیا
کہیں یہ دور ایسا دور تو نہیں
کہ جس میں اپنے آپ پر پڑی تھکن اتارتے اتارتے مریں گے سب
ادب لحاظ اور سکون کے بغیر زندگی گزارتے گزارت مریں گے سب
صحیح مسیحِ وقت کو غلط مقام پر پکارتے پکارتے مریں گے سب
کہیں یہ دور ایسا دور تو نہیں
کہ جس میں میڈیا کے وار سے ضمیر بیچنے کی رسم کو ادا کریں گے سب
ہرایک خیر کو فنا کریں گے سب
گھٹن بڑھے گی اِس قدر کہ موت کی دعا کریں گے سب
ضروریاتِ زر کے ایسے دور میں
عطا کا پھل حضورؐ ہی کے پاس ہے
محبتوں کی ڈَل حضورؐ ہی کے پاس ہے
بلاشبہ
تمام مسئلوں کا حل حضورؐ ہی کے پاس ہے
سہیل احمد صمیمؔ