آزاد نعتیہ نظم – حل

سہیل احمد صمیمؔ کی نعتیہ نظم

جہانِ رنگ و بو کی کم نصیبی دیکھئے
کہ کمپیوٹروں کا زور ہے مگر
خیال ختم ہوگئے، کلام ختم ہو گیا
عجب نظامِ آگہی کا دور ہے کہ آدمی کا احترام ختم ہو گیا
کہیں یہ دور ایسا دور تو نہیں
کہ جس میں اپنے آپ پر پڑی تھکن اتارتے اتارتے مریں گے سب
ادب لحاظ اور سکون کے بغیر زندگی گزارتے گزارت مریں گے سب
صحیح مسیحِ وقت کو غلط مقام پر پکارتے پکارتے مریں گے سب
کہیں یہ دور ایسا دور تو نہیں
کہ جس میں میڈیا کے وار سے ضمیر بیچنے کی رسم کو ادا کریں گے سب
ہرایک خیر کو فنا کریں گے سب
گھٹن بڑھے گی اِس قدر کہ موت کی دعا کریں گے سب
ضروریاتِ زر کے ایسے دور میں
عطا کا پھل حضورؐ ہی کے پاس ہے
محبتوں کی ڈَل حضورؐ ہی کے پاس ہے
بلاشبہ
تمام مسئلوں کا حل حضورؐ ہی کے پاس ہے

سہیل احمد صمیمؔ

سہیل احمد صمیم

سہیل احمد صمیم (اردو اور ہندکو شاعر/ادیب)۔ تعلیمی قابلیت: بی بی اے آنرز (ایچ آر ایم)، ایل ایل بی اور ایم اے اردو گولڈ میڈلسٹ۔ شائع شدہ کتاب کا نام: اِلی النُور (نعتیہ شاعری)۔ زیرِ طبع کتب۔ 1. لایزال (دوسرا نعتیہ مجموعہ )۔ 2. خواب کہاں جاتی ہیں (اردو شعری مجموعہ ) 3. ہزار میں فارسی زبان و ادب کی روایت (تحقیق) دیگر حوالہ جات کالم نگاری : ادبی، تحقیقی اور تخلیقی مضامین مختلف ادبی رسائل اور پلیٹ فارمز میں شائع ہو تے رہتے ہیں۔ آپڑی ہندکو سوشل میڈیا پلیٹ فارم کے بانی بھی ہیں جہاں ہندکو زبان و ادب کی ترویج و ترقی کے لئے کوشاں ہیں۔