گو تغیر سرشتِ خوں ہے میاں

فرید احمد کی ایک اردو غزل

گو تغیر سرشتِ خوں ہے میاں
وحشتِ دل تو جُوں کی تُوں ہے میاں

تم بضد کیوں ہو چارہ سازی پر
مجھ کو اس رنگ میں سکوں ہے میاں

تم بظاہر کریدتے ہیں مجھے
عشق تو اندرونِ خوں ہے میاں

ایک سجدے میں کیوں تمام نہ ہو
عمر کیا اس قدر فزوں ہے میاں

ہم جو بیٹھے ہیں سرنگوں، خاموش
یہ بھی اک حالتِ جنوں ہے میاں

تُو کہ تشنہ، رواں ہے سوئے سراب
اور سمندر ترے دروں ہے میاں

عصرِ حاضر میں ہم جو زندہ ہیں
یہ کوئی کمترِ فسوں ہے میاں

ہو نہ خاشاک گر گہر نہ ہوا
پندِ رومی فرید یوں ہے میاں

فرید احمد دیو

فرید احمد

فرید احمد دیو - قلمی نام : فرید احمد - ڈالووالی سیالکوٹ پاکستان