غریبوں کی بیٹی

ایک اردو نظم از نعمت اللہ رضا خواؔب

غریبوں کی بیٹی اگر مرگئی تو

کسانوں کی کھتی اگر جل گئی تو

نہیں بولتی ہے حکومت ہماری

کہ ہے بک گئی یہ حکومت ہماری

اسی ملک میں ماں رالئی گئی ہے

یہیں بچیاں بھی ستائی گئی ہے

مگر کچھ نہیں بولتی ہے حکومت

کہ لب کیوں نہیں کھولتی ہے حکومت ؟

سوالوں کی دنیا بسا کر دلوں میں

زخم اپنے الکھوں دبا کر دلوں میں

ابھی تک مسلمان یہیں رہے رہا ہے

یہ ہر دن تکالیف کیوں کیسے رہا ہے

نعمت اللہ رضا خواؔب

نعمت اللہ رضا

شاعر : نعمت اللہ رضا خواؔب بن محمد مقصود عالم برکاتی منظری ‎‎‎‎‎‎‎‎‎‎‎‎‎‎‎‎‎‎- دارالہدیٰ اسلامک یونیورسٹی، کیرالا