اک شورِ حزیں دل میں اُٹھا کافی دنوں سے!
اک شور جو اونچا ہے سماعت کی حدوں سے!
اس گھر کی ہر اک شے ہے پژمردۂ و ناخوش،
وحشت سی چھلکتی ہے دواروں سے نَلوں سے!
تھم جاۓ گی جب موسمِ ہجراں کی یہ بارش،
نکلیں گے بہت قصّے محبّت کے بِلوں سے!
اب ہم کو میسر نہیں دیدارِ نظر تو،
ہم دیکھیں گے اک دوجے کو اب اپنے دِلوں سے!
وہ شخص کہ جو میری محبت کا ہے محور،
وہ شخص ہی نالاں ہے مرے عشق و جنوں سے!
کچھ پل مجھے دنیا سے کہیں دور ذرا مِل،
کچھ پل تو گزاریں گے محبّت سے سکوں سے!
مخفی ہے تری آنکھ کی ان لال رگوں میں،
اک ہجر جو ظاہر ہے مری بکھری لَٹوں سے!
تسخیر کیے جاتے ہو آنکھوں سے مسلسل،
اک بار مرا نام تو لو اپنے لبوں سے!
ایمان ندیم ملک