دشمنی پر وہی تلا ہوا ہے
جو مِری زندگی بنا ہوا ہے
شورِ گریہ سنائی دینے لگا
قافلہ دشت میں لٹا ہوا ہے
لا شعوری ہے یہ سخن گوئی
میں نے یہ فلسفہ سنا ہوا ہے
میں تو قائل نہ تھا محبت کا
پھر اچانک مجھے یہ کیا ہوا ہے
فتنہ سازی مِرے زمانے کی
ا چھا ہونا بھی تو برا ہوا ہے
اس نے مجھ کو قضا ہے کر رکھا
وہ بھی مجھ سے کہاں ادا ہوا ہے
خود سے ملنے میں دیر کیوں دوشی
آئنہ سامنے پڑا ہوا ہے
ایم اے دوشی