دوستوں کی بزم سے ، اُس دن نکل جائیں
اُن میں سے اکثر کہ جب تیور بدل جائیں
خاص کر دشمن کی تو حاجت نہیں رہتی
آستیں کے سانپ جب اپنوں میں مل جائیں
دیکھنا مڑ کر تو پھر عزت کا سودا ہے
چھوڑ کر ہم جب کوئی محفل نکل جائیں
اِس قدر رو رو کے آنکھیں خشک کر ڈالی
آ تجھے دیکھیں تو شاید ہم بہل جائیں
بھولنا حامیؔ تجھے ہے جیتے جی مشّکل
ہے توقع مر کے شاید ہم سنبھل جائیں
سردار حمادؔ منیر