دل کی آس مٹائے کون جلتی شمع بجھائے کون
ان کی بات پہ جائے کون جھوٹی آس لگائے کون
دو اک ہوں تو بات کریں دنیا کو سمجھائے کون
ہم حق پر ہی سہی لیکن ان کی راہ میں آئے کون
وہ داتا تو ہیں باقیؔ پر دامن پھیلائے کون
باقی صدیقی
سہیل احمد صمیم کی ایک اردو غزل
ایک اردو غزل از رشید حسرت
وصال عباسی کی ایک اردو غزل