دل میں شور برابر ہے

احمد مشتاق کی ایک اردو غزل

دل میں شور برابر ہے
کون اس گھر کے اندر ہے

عشق میں کوئی وقت نہیں
دن اور رات برابر ہے

دل پر کوئ بوجھ نہیں
یعنی آپ ہی پتھر ہے

باہر خوب ہنسو، بولو
رونے دھونے کو گھر ہے

دکھ کی مسلیں چار طرف
دل بھی میرا دفتر ہے

ترکِ عشق سے جی کا حال
پہلے سے کچھ بہتر ہے

ختم ہوا سب کاروبار
یادیں ہیں اور بستر ہے

تم ہو شاد نہ میں غمگیں
یہ موسم کا چکر ہے

ساحل سے پوچھو مشتاق
کتنی دور سمندر ہے

احمد مشتاق

سائٹ منتظم

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔