دل ڈوبنے لگا ہے توانائی چاہیئے

آشفتہ چنگیزی کی ایک اردو غزل

دل ڈوبنے لگا ہے توانائی چاہیئے
کچھ وار مجھ کو زہر شناسائی چاہیئے

کل تک تھے مطمئن کہ مسافر ہیں رات کے
اب روشنی ملی ہے تو بینائی چاہے

توفیق ہے تو وسعت صحرا بھی دیکھ لیں
یہ کیا کہ اپنے گھر کی ہی انگنائی چاہیئے

ارمان تھا تمہیں کو کہ سب ساتھ میں رہیں
اب تم ہی کہہ رہے ہو کہ تنہائی چاہیئے

ہلکی سی اس جماہی سے میں مطمئن نہیں
بند قبا کا خوف کیا انگڑائی چاہئے

جو لوگ آئنہ سے بہت دور دور تھے
ان کو بھی آج بزم خود آرائی چاہیئے

شائستگان شہر میں مت کیجیے شمار
مردود خلق ہوں مجھے رسوائی چاہیئے

آشفتہ چنگیزی

سائٹ منتظم

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔