دل آباد کہاں رہ پائے

ایک اردو غزل از جلیل عالی

دل آباد کہاں رہ پائے اس کی یاد بھلا دینے سے

کمرہ ویراں ہو جاتا ہے اک تصویر ہٹا دینے سے

بے تابی کچھ اور بڑھا دی ایک جھلک دکھلا دینے سے

پیاس بجھے کیسے صحرا کی دو بوندیں برسا دینے سے

ہنستی آنکھیں لہو رلائیں کھلتے گل چہرے مرجھائیں

کیا پائیں بے مہر ہوائیں دل دھاگے الجھا دینے سے

ہم کہ جنہیں تارے بونے تھے ہم کہ جنہیں سورج تھے اگانے

آس لیے بیٹھے ہیں سحر کی جلتے دیئے بجھا دینے سے

عالی شعر ہو یا افسانہ یا چاہت کا تانا بانا

لطف ادھورا رہ جاتا ہے پوری بات بتا دینے سے

 

جلیل عالی

سائٹ منتظم

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔