دھیان تیرا جہاں لگا ہوا ہے

ارشاد نیازی کی ایک اردو غزل

دھیان تیرا جہاں لگا ہوا ہے
کوڑا کرکٹ وہاں پڑا ہوا ہے

اب تو تم بھی مرے قریب نہیں
مندَمِل زخم کیوں ہرا ہوا ہے

آنکھ ہے خواب کے نشانے پر
طاقچے میں دیا دھرا ہوا ہے

ایک دیوار کالے پتھر کی
جس میں اک پھول بھی جڑا ہوا ہے

کوئی بدصورتی پہ رویا تھا
آئنے پر نشاں پڑا ہوا ہے

ایک بھی گھونسلا نہیں تجھ پر
یار تُو کس لیے ہرا ہوا ہے

یونہی دل پر نہیں نگہ داری
اک خزانہ یہاں دبا ہوا ہے

میرے سچ پر یقین کر لینا
ورنہ اک جھوٹ بھی گھڑا ہوا ہے

عشق تو ہو گیا مجھے ارشاد
مسئلہ یہ ہے , بے بہا ہوا ہے

ارشاد نیازی

ارشاد نیازی

نیازی تخلص رکھنے والے ارشاد احمد17 اپریل 1979 کو سیالکوٹ ایک قصبے چوبارہ میں پیدا ہوئے ۔ والدہ گھریلو خاتون تھیں اور والد صاحب شعبہ ء حکمت سے وابستہ تھے چار بھائی ہیں ایک بھائی اور شاعری کرتا ہے ابتدائی تعلیم گورنمنٹ ہائی سکول چوبارہ سے، ایف اے پرائیوٹ اور بی اے علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی سے کیا ۔