ن م راشد

ن م راشد کی زیادہ تر نظمیں ازل گیر و ابدتاب موضوعات کا احاطہ کرتی ہیں، جو ان پرحتمی رائے قائم نہیں کرتیں بلکہ انسان کو ان مسائل کے بارے میں غور کرنے پر مائل کرتی ہیں۔ ظاہر ہے کہ اس قسم کی شاعری کے لیے زبردست مطالعہ اور اعلیٰ تخلیقی صلاحیتیں اورتیکھی ذہنی اپج درکار ہے جو ہر کسی کے بس کا روگ نہیں ہے۔ راشد کے پسندیدہ موضوعات میں سے ایک اظہار کی نارسائی ہے۔ اپنی غالباً اعلیٰ ترین نظم حسن کوزہ گر‘میں وہ ایک تخلیقی فن کار کا المیہ بیان کرتے ہیں جو کوزہ گری کی صلاحیت سے عاری ہو گیا ہے اور اپنے محبوب سے ایک نگاہِ التفات کا متمنی ہے جس سے اس کے خاکستر میں نئی چنگاریاں پھوٹ پڑیں۔ لیکن راشد کی بیشتر نظموں کی طرح حسن کوزہ گر بھی کئی سطحوں پر بیک وقت خطاب کرتی ہے اور اس کی تفہیم کے بارے میں ناقدین میں ابھی تک بحث و تمحیص کا سلسلہ جاری ہے۔

اس بھرے شہر میں

ایک اردو نظم از ن م راشد

8 مہینے پہلے

حَسَن کوزہ گر

ایک اردو نظم از ن م راشد

6 سال پہلے

رخصت

ایک اردو نظم از ن م راشد

6 سال پہلے

بے چارگی

ایک اردو نظم از ن م راشد

6 سال پہلے

مسکراہٹیں

ایک اردو نظم از ن م راشد

6 سال پہلے

اے مِری رُوح تجھے

ایک اردو نظم از ن م راشد

6 سال پہلے

اندھا کباڑی

ایک اردو نظم از ن م راشد

6 سال پہلے

دستِ ستمگر

ایک اردو نظم از ن م راشد

6 سال پہلے

میں اسے واقف الفت نہ کروں

ایک اردو نظم از ن م راشد

6 سال پہلے