بس ایک بار تو اپنا بنا کے دیکھتا تُو

ایک اردو غزل از صغیر احمد صغیر

بس ایک بار تو اپنا بنا کے دیکھتا تُو
غلام کیسا ہے یہ آزما کے دیکھتا تُو

بہت سے رنگ ہیں تیرے ہزاروں عکس، بجا
مگر جو اشک میں بنتا ہے آ کے دیکھتا تُو

تجھے نظر نہیں آیا کہ تیرے پاس تھا مَیں
قریب کتنا ہوں یہ دور جا کے دیکھتا تُو

میاں نصیب ستاروں میں ہے یہ باتیں ہیں
کسی فقیر سے نظریں ملا کے دیکھتا تُو

یہ پیاس کیا ہے مکمل سمجھ میں آ جاتی
جو کربلا کو تصور میں لا کے دیکھتا تو

صغیر (نام) میں کوئی تو بات ہے ورنہ
نہ اس کو لکھتا نہ ایسے مٹا کے دیکھتا تُو

صغیر احمد صغیر

صغیر احمد صغیر

پورا نام: ڈاکٹر صغیر احمد قلمی نام: صغیر احمد صغیر جائے پیدائش؛ رحیم یار خان. 1967. ابتدائی تعلیم: میٹرک: گورنمنٹ ماڈل ہائی سکول، صادق آباد گریجویشن: خواجہ فرید گورنمنٹ کالج، رحیم یار خان ۔اعلٰی تعلیم: ایم ایس سی ذوآلوجی: پنجاب یونیورسٹی ایم اے تاریخ: پنجاب یونیورسٹی ایم فل؛ بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی، ملتان پی ایچ ڈی: بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی، ملتان پیشہ: قوم کے بچوں کو حیاتیات پڑھاتے گزر گئی۔ ادبی سفر کا آغاز : اسّی کی دہائی سے لکھنا شروع کیا، پہلا شعری مجموعہ، (بھلا نہ دینا) میں اسّی اور نوّے کی دہائی کی شاعری شامل ہے۔ شرف ِ تلمذ : جناب امجد اسلام امجد اور جناب زاہد آفاق ایک شعری مجموعہ: بھلا نہ دینا رہائش.... لاہور ۔اخبارات یا رسائل سے وابستگی: پی ایچ ڈی شروع کرنے سے پہلے روزنامہ جنگ، روزنامہ نوائے وقت، روزنامہ خبریں اور بیاض میرے مضامین، کالم اور کلام شائع ہوتا تھا۔ اب دوبارہ سلسلہ شروع کرنے لگا ہوں۔ تعارفی شعر : اس عشق کے رستے کی بس دو ہی منازل ہیں یا دل میں اتر جانا ، یا دل سے اتر جانا (صغیر احمد صغیر)