بوڑھا تھا مگر عین جوانی میں کھڑا تھا

ایک اردو غزل از رشید حسرت

بوڑھا تھا مگر عین جوانی میں کھڑا تھا
مہکار میں تھا رات کی رانی میں کھڑا تھا

تھے جتنے بھی وہ بیٹھ گئے ایک مگر تھا
کردار وہی تھا جو کہانی میں کھڑا تھا

یہ بات الگ شاہ زباں پر نہیں ٹھہرا
شب بھر کو وہ اک شخص تو پانی میں کھڑا تھا

جیون میں نہیں بیٹا، جنازے پہ تو آیا
اولیٰ میں نہیں وہ صفِ ثانی میں کھڑا تھا

تصویر کوئی آج کتابوں میں ملی ہے
اک عکس مرے ساتھ نشانی میں کھڑا تھا

کچھ دیر کو وہ کوچہ و گھر ذہن میں اترے
کچھ دیر کو وہ یاد پرانی میں کھڑا تھا

جو سامنے آیا ہے ہڑپ کرتا گیا ہے
اک اژدھا کہ دورِ گرانی میں کھڑا تھا

کیا کیف تھا وہ چاند نمایاں تھا ندی میں
میں دیر تلک رات سہانی میں کھڑا تھا

سب کرسیاں خالی تھیں مگر ایک ادب دان
بھاشن پہ رشیدؔ اپنی روانی میں کھڑا تھا

رشید حسرتؔ

۲۷ اگست ۲۰۲۴

رشید حسرت

رشید حسرت نے 1981 سے باقاعدہ شاعری کا آغاز کیا۔ ان کی شاعری اخبارات، ادبی رسائل اور کل پاکستان و کل پاک و ہند مشاعروں میں شائع اور پیش ہوتی رہی۔ پی ٹی وی کوئٹہ کے مشاعروں میں ان کی شرکت ان کی تخلیقی شناخت کا آغاز تھی، مگر بعد میں انہوں نے اجارہ داریوں اور غیر منصفانہ رویّوں سے تنگ آ کر اس نظام سے علیحدگی اختیار کی۔ ان کے پانچ شعری مجموعے شائع ہو چکے ہیں۔ سب کے سب اپنی ذاتی جیب سے، جو ان کے خلوص اور ادب سے والہانہ لگاؤ کی علامت ہیں۔ رشید حسرت اس طبقے کے نمائندہ شاعر ہیں جنہوں نے ادب کو کاروبار نہیں بلکہ عبادت سمجھا۔