برسرِ اقتدار سارے لوگ

ایک اردو غزل از ارشاد نیازی

برسرِ اقتدار سارے لوگ
یعنی کم ظرف اور کھارے لوگ

تیرے ہوتے ہوئے خدا , ہم پر
کیوں مسلط ہوئے , اتارے لوگ

کیسے سہہ جاتے ہیں, خدا جانے
بےسبب عشق میں , خسارے لوگ

کچھ تو نزدیکیوں سے ڈھیر ہوئے
اور کچھ دوریوں نے مارے لوگ

اِس کنارے پہ ڈوبتا ہوا میں
منتظر کب سے اُس کنارے لوگ

ایک جنت کی جستجو میں یہاں
کس اذیت سے ہیں گزارے لوگ

کب تلک یونہی مجھ کو رونا ہے
بول ! جب پوچھیں تیرے بارے لوگ

جنگ خود ساختہ انا سے ہے
اور ہم لوگ خود سے ہارے لوگ

ایسا کیا آئنے میں دیکھ آئے
اے خدا خیر سب پکارے لوگ

دن بدن بڑھتا تیرگی کا خوف
ہیں کہاں چاند اور ستارے لوگ

سانپ کی طرح ڈس رہے ارشاد
میرے چوگرد روپ دھارے لوگ

ارشاد نیازی

ارشاد نیازی

نیازی تخلص رکھنے والے ارشاد احمد17 اپریل 1979 کو سیالکوٹ ایک قصبے چوبارہ میں پیدا ہوئے ۔ والدہ گھریلو خاتون تھیں اور والد صاحب شعبہ ء حکمت سے وابستہ تھے چار بھائی ہیں ایک بھائی اور شاعری کرتا ہے ابتدائی تعلیم گورنمنٹ ہائی سکول چوبارہ سے، ایف اے پرائیوٹ اور بی اے علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی سے کیا ۔

تبصرے دیکھیں