باغ سے متصل ہے ایک گلی

اکرام عارفی کی ایک اردو غزل

باغ سے متصل ہے ایک گلی
جہاں کھلتی ہے میرے دل کی کلی

محبس دل میں تم نہیں آئے
ایک دن تو یہاں ہوا بھی چلی

تیری فرقت کے داغ دل میں رکھے
تیرے کوچے کی خاک منہ پہ ملی

ایک تو ہے کہ ہے نظر آتا
ایک میں ہوں کہ ہوں خفی نہ جلی

زر خیرات پھینک دیتا ہوں
کون چکھے سخاوتوں کی ڈلی

سوکھنے والے پھر ہرے نہ ہوئے
راہ کی گھاس پھر نہ پھولی پھلی

پوچھتے ہو کہ کون ہے اکرامؔ
کبھی دیکھا ہے کیا جدید ولیؔ

اکرام عارفی

سائٹ منتظم

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔