بدگمانی سے بنایا گیا عشق کا ساماں ہم کو
اس پے بھی ملا بے وفا کا عنواں ہم کو
رک رک کے دیکھتے شہر -اے-میر کی دیواراں کو
ہر بار تیری تصویر کرتی ہے حیراں ہم کو
عشق کے آتش فشاں شعلوں سے جاویدا ذات
کہ لرزتا ہے فصل گل دیکھتی ہے درخشاں ہم کو
اور ہر چند تخیل میں میسر ہے وہ ہم کو
اس میں بھی ستمگر ملتا نہیں مہرباں ہم کو
کچھ اس طرح سے چھوڑا تتلیوں نے چمن کو
ہوتا نہیں ہے مٹی کے پریندے سے وفا کا گماں ہم کو
نگار فاطمہ انصاری