بدن کی قید میں رہ کر تمام تر کاٹو

کومل جوئیہ کی ایک اردو غزل

بدن کی قید میں رہ کر تمام تر کاٹو
یہ عمر کوئی سزا ہے کہ عمر بھر کاٹو

رہے نہ ایک بھی حامی یہاں محبت کا
جلا دو پھول کی شاخوں کو اور شجر کاٹو

کھلی فضائیں دکھاتا تھا مجھ کو اور اک روز
کسی نے اس کو سکھایا کہ اس کے پر کاٹو

تمہارے فائدے نقصان کا ہی ذکر نہ ہو
کسی کی بات جو کاٹو تو سوچ کر کاٹو

پنپ رہی ہے بغاوت سو تم پہ واجب ہے
ہماری آنکھیں نکالو ہمارے سر کاٹو

یہ کوئی شرط نہیں ہے کہ میرے پاس رہو
تمہارا وقت ہے چاہے جہاں جدھر کاٹو

بڑی ہی عمدہ لکھی داستاں محبت کی
مگر جو لفظ اضافی لکھا ہے ڈر کاٹو

تمام عمر کی آوارگی کے بعد کھلا
نہ دل کی بات سنو اور نہ در بہ در کاٹو

کومل جوئیہ

کومل جوئیہ

اصلی نام۔۔۔۔ شازیہ خورشید - قلمی نام۔۔۔۔ کومل جوئیہ - جائے پیدائش۔۔۔۔۔کبیروالا- سکونت۔۔۔۔۔ملتان- تعلیم ۔۔۔۔۔ایم۔اے سیاسیات ، بی ایس اردو ، بی ایڈ- تصانیف ۔۔۔۔۔۔غزل کی تین کتب- اول۔۔۔۔۔ایسا لگتا ہے تجھ کو کھو دوں گی 2013- دوم ۔۔۔۔۔ہاتھ پہ آئی دستک 2023- سوم ۔۔۔۔۔دھوپ نہاتی بارش 2024-