Oplus_131072
بدن کی قید میں رہ کر تمام تر کاٹو
یہ عمر کوئی سزا ہے کہ عمر بھر کاٹو
رہے نہ ایک بھی حامی یہاں محبت کا
جلا دو پھول کی شاخوں کو اور شجر کاٹو
کھلی فضائیں دکھاتا تھا مجھ کو اور اک روز
کسی نے اس کو سکھایا کہ اس کے پر کاٹو
تمہارے فائدے نقصان کا ہی ذکر نہ ہو
کسی کی بات جو کاٹو تو سوچ کر کاٹو
پنپ رہی ہے بغاوت سو تم پہ واجب ہے
ہماری آنکھیں نکالو ہمارے سر کاٹو
یہ کوئی شرط نہیں ہے کہ میرے پاس رہو
تمہارا وقت ہے چاہے جہاں جدھر کاٹو
بڑی ہی عمدہ لکھی داستاں محبت کی
مگر جو لفظ اضافی لکھا ہے ڈر کاٹو
تمام عمر کی آوارگی کے بعد کھلا
نہ دل کی بات سنو اور نہ در بہ در کاٹو
کومل جوئیہ