Oplus_131072
باتوں ہی باتوں میں تیرا ذکر لاتے ہیں شوق سے
میرے دوست میرا صبر آزماتے ہیں شوق سے
تم اپنے عہد کی تکمیل میں لُٹ جاتی ہو
یہاں لوگ جھوٹی قسمیں کھاتے ہیں شوق سے
وہ داستاں جو ادھوری چھوڑی تھی ہم نے
اب بدلتے ہوئے موسم سناتے ہیں شوق سے
سنو ! اپنے دل کی فصیلیں ذرا مضبوط رکھنا
اس شہر میں افواہیں اُڑاتے ہیں شوق سے
ہم ہر شجر کو ثمر بخشنے والے اکثر
اپنی ہی زندگی پر خاک اُڑاتے ہیں شوق سے
کم سنی کی نادانی میں دیکھے ہوئے خواب
ٹوٹ کر عمر بھر جگاتے ہیں شوق سے
نگارؔ حرفِ وفا ہم نے یوں نبھایا ہے
کہ زخم دل کے سب دکھاتے ہیں شوق سے
نگار فاطمہ انصاری