بات اپنی سنا کے دیکھوں گا

محمد اویس ظافِر کی ایک اردو غزل

بات اپنی سنا کے دیکھوں گا
تیری محفل میں آ کے دیکھوں گا

کتنے اپنے ہیں غیر ہیں کتنے
میں مصیبت میں جا کے دیکھوں گا

عشق کی آگ کیسی ہوتی ہے
اپنے اندر جلا کے دیکھوں گا

مجھ کو مایوس کر نہیں سکتا
اُس کو جب بھی بُلا کے دیکھوں گا

مٹ ہی جائیں گی دُوریاں اُس سے
گر میں خود کو مٹا کے دیکھوں گا

ایک دن سامنے میں آئے گا
اُس کو نظریں جما کے دیکھوں گا

خود کو آدمؑ میں یوں چھپایا کیوں؟
مسئلہ یہ اٹھا کے دیکھوں گا

منزلیں طے ہوئیں تو پھر ظافِرؔ
میں بھی جلوے خدا کے دیکھوں گا

محمد اویس ظافِر

محمد اویس ظافِر

میرا نام محمد اویس ہے اورقلمی نام محمد اویس ظافِر۔ میری تاریخِ پیدائش 12 مارچ 1990 ہے، میں سیالکوٹ سے تعلق رکھتا ہوں، اس دھرتی سے جہاں لفظ سوچتے ہیں اور خواب بولتے ہیں۔ادب میرے لیے محض ایک دلچسپی نہیں بلکہ ایک عہد، ایک نسبت اور ایک ذمہ داری ہے۔میری تخلیقی وابستگی نے مجھے مختلف جہتوں میں کام کرنے کا موقع دیا۔ میں اخبارات، ریڈیو پاکستان اور مختلف نیوز چینلز کے ساتھ وابستہ رہا، جہاں لفظ اور آواز کے امتزاج نے میری شناخت کو نیا رنگ دیا۔ ادبی سرگرمیوں کے حوالے سے میں نے پنجابی ادبی تنظیم "سوچاں دی مہکار" سیالکوٹ میں جنرل سیکرٹری کے طور پر فعال کردار ادا کیا۔اسی طرح بزمِ دوستانِ ادب سیالکوٹ اور سیالکوٹ ٹی ہاؤس (جو ضلعی انتظامیہ کی سرپرستی میں شعرا و ادبا کے لیے قائم کیا گیا) میں سیکرٹری نشر و اشاعت کی ذمہ داری بھی نبھائی۔ ان پلیٹ فارمز نے مجھے اہلِ قلم کے درمیان پل کا کردار ادا کرنے کا موقع دیا، جس پر میں فخر محسوس کرتا ہوں۔اگرچہ میں پیشے کے اعتبار سے صنعت سے وابستہ ہوں، مگر شاعری میرا اصل حوالہ ہے۔ شعر میرے لیے محض اظہار نہیں بلکہ احساس کی عبادت ہے۔ میری شاعری میں محبت، مشاہدے، انسان دوستی اور وقت کی صداقتیں ایک ساتھ سانس لیتی ہیں اور میرا یقین ہے کہ لفظ اگر دل سے نکلیں تو وقت کی گرد میں بھی اپنی چمک نہیں کھوتے۔ میں آج بھی اسی یقین، اسی محبت اور اسی جذبے کے ساتھ لکھنے کے عمل کو جاری رکھے ہوئے ہوں۔