بات اپنی سنا کے دیکھوں گا
تیری محفل میں آ کے دیکھوں گا
کتنے اپنے ہیں غیر ہیں کتنے
میں مصیبت میں جا کے دیکھوں گا
عشق کی آگ کیسی ہوتی ہے
اپنے اندر جلا کے دیکھوں گا
مجھ کو مایوس کر نہیں سکتا
اُس کو جب بھی بُلا کے دیکھوں گا
مٹ ہی جائیں گی دُوریاں اُس سے
گر میں خود کو مٹا کے دیکھوں گا
ایک دن سامنے میں آئے گا
اُس کو نظریں جما کے دیکھوں گا
خود کو آدمؑ میں یوں چھپایا کیوں؟
مسئلہ یہ اٹھا کے دیکھوں گا
منزلیں طے ہوئیں تو پھر ظافِرؔ
میں بھی جلوے خدا کے دیکھوں گا
محمد اویس ظافِر