ہانی مرے خلاف ہے، چاکر مرے خلاف

مظفرؔ ڈھاڈری بلوچ کی ایک اردو غزل

ہانی مرے خلاف ہے، چاکر مرے خلاف
جب سے ہوا ہے میرا مقدر مرے خلاف

مانا کہ پاؤں ہوتے نہیں جھوٹ کے مگر
نکلے ہیں پھر بھی جھوٹ کے پیکر مرے خلاف

دل ٹوٹ ٹوٹ جائے غمِ احتمال سے
ہونے لگیں جو آپ، ذرا بھر مرے خلاف

پینے لگاہوں جب سے تری چشمِ ناز سے
رہنے لگے ہیں ساقی و ساغر مرے خلاف

خود سر ہوں جھوٹ، جھوٹ کو کہتا ہوں برملہ
یہ شہر اب اٹھائے گا پتھر مرے خلاف

باہر کی بات کیا مرے اندر بھی چور ہے
بُنتا ہے جال مجھ میں ہی چھپ کر مرے خلاف

تیری وفا پہ سخت مجھے اعتبار تھا
ہونے لگا ہے تُو بھی مظفرؔ مرے خلاف

مظفرؔ ڈھاڈری بلوچ

مظفر ڈھاڈری

اصل نام مظفر علی بلوچ اور قلمی نام مظفرؔ ڈھاڈری بلوچ ہے۔ آپ یکم مارچ 1998 کو تحصیل لہڑی، ضلع سبی کے قدیم و سادہ دل گاؤں تریہڑ میں پیدا ہوئے۔ بچپن ہی کی عمر تھی جب والد کی ملازمت کے سبب خاندان نے ڈھاڈر، ضلع بولان کا رخ کیا۔ آٹھ دس برس کی عمر کے اس کم سن مسافر نے جب ڈھاڈر کی مٹی کی خوشبو، ہوا کی نرمی اور لوگوں کی محبت دیکھی تو یوں لگا جیسے یہ زمین اس کے وجود کی بُن میں جاگھسی۔ یہی وجہ ہے کہ بعد ازاں آپ نے اپنے نام کے ساتھ ڈھاڈری کا لاحقہ اختیار کیا، جیسے شناخت اور محبت کا ایک حسین امتزاج۔ ابتدائی تعلیم سے لے کر ایف۔ایس۔سی تک کا زمانہ ڈھاڈر ہی کی درسگاہوں میں بسر کی۔ اعلیٰ تعلیم کے لیے بلوچستا یونیورسٹی کا انتخاب کیا، جہاں سے آپ نے ایم۔اے اردو کی ڈگری حاصل کی اور زبان و ادب کے وسیع بحر میں اپنے لیے ایک راستہ متعین کیا۔ شاعری کے مزاج اور فن کی تربیت کے لیے آپ نے کئی تجربہ کار اور معتبر اساتذہ سے فیض حاصل کیا جن میں شاہ نواز راہی، ذوالفقار یوسف، فیاض تبسم نیازی جیسے نام شامل ہیں۔ موجودہ دور میں آپ نامور شاعر حسرت رشید سے باقاعدہ اصلاح لے رہے ہیں اور ان کی شاگردی میں شاعری کے رموز و دقائق کو نہایت شوق اور انہماک سے سیکھ رہے ہیں۔ مظفر ڈھاڈری نے نہ صرف بلوچستان بلکہ پاکستان بھر کے مشاعروں میں اپنی آواز کا جادو جگایا ہے۔ مختلف ادبی محفلوں، قومی و صوبائی مشاعروں اور ثقافتی تقریبات میں آپ بارہا مدعو کیے جاتے رہے ہیں۔