ہانی مرے خلاف ہے، چاکر مرے خلاف
جب سے ہوا ہے میرا مقدر مرے خلاف
مانا کہ پاؤں ہوتے نہیں جھوٹ کے مگر
نکلے ہیں پھر بھی جھوٹ کے پیکر مرے خلاف
دل ٹوٹ ٹوٹ جائے غمِ احتمال سے
ہونے لگیں جو آپ، ذرا بھر مرے خلاف
پینے لگاہوں جب سے تری چشمِ ناز سے
رہنے لگے ہیں ساقی و ساغر مرے خلاف
خود سر ہوں جھوٹ، جھوٹ کو کہتا ہوں برملہ
یہ شہر اب اٹھائے گا پتھر مرے خلاف
باہر کی بات کیا مرے اندر بھی چور ہے
بُنتا ہے جال مجھ میں ہی چھپ کر مرے خلاف
تیری وفا پہ سخت مجھے اعتبار تھا
ہونے لگا ہے تُو بھی مظفرؔ مرے خلاف
مظفرؔ ڈھاڈری بلوچ