آئیے رو لیں کہیں رونے سے چین آ جائے گا

خورشید رضوی کی ایک اردو غزل

آئیے رو لیں کہیں رونے سے چین آ جائے گا

ورنہ درد دل بھری محفل میں پکڑا جائے گا

چاند کی چاہت ہے لیکن چاند کو کم دیکھیے

ورنہ جب آنکھوں میں بس جائے گا گہنا جائے گا

جنبش موج صبا سے بھی اگر لب ہل گئے

بات پکڑی جائے گی محشر اٹھایا جائے گا

سردیوں کی اوس میں ٹھٹھرا ہوا اک اجنبی

کل تری دیوار کے سائے میں پایا جائے گا

دید کی مہلت تو ملتی ہے مگر کیا دیکھیے

آنکھ بجھ جائے گی آخر پھول کمھلا جائے گا

اے صبا فرصت نہیں خاکستر دل سے نہ کھیل

ہم اگر روئے تو پھر تا دیر رویا جائے گا

خورشید رضوی

سائٹ منتظم

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔