اشک گرنے کی صدا آئی ہے

ذوالفقار عادل کی ایک اردو غزل

اشک گرنے کی صدا آئی ہے

بس یہی راحت گویائی ہے

سطح پر تیر رہے ہیں دن رات

نیند اک خواب کی گہرائی ہے

ان پرندوں کا پلٹ کر آنا

اک تخیل کی پذیرائی ہے

عکس بھی غیر ہے آئینہ بھی

یہ تحیر ہے کہ تنہائی ہے

ان دریچوں سے کہ جو تھے ہی نہیں

اک اداسی ہے کہ در آئی ہے

دل نمودار ہوا ہے دل میں

آنکھ اک آنکھ سے بھر آئی ہے

اس کی آنکھوں کی خموشی عادلؔ

ڈوبتے وقت کی گویائی ہے

ذوالفقار عادل

سائٹ منتظم

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔