اشک اپنی آنکھوں سے خُود بھی ہم چھُپائیں گے

ایک اردو غزل از نوشی گیلانی

اشک اپنی آنکھوں سے خُود بھی ہم چھُپائیں گے
تیرے چاہنے والے شور کیا مچائیں گے

صُبح کی ہَوا تجھ کو وہ ملے تو کہہ دینا
شام کی منڈیروں پر ہم دیئے جلائیں گے

ہم نے کب ستاروں سے روشنی کی خواہش کی
ہم تمہاری آنکھوں سے شب کو جگمگائیں گے

تُجھ کو کیا خبر جاناں ہم اُداس لوگوں پر
شام کے سبھی منظر اُنگلیاں اٹھائیں گے

ہم تری محبت کے جُگنوؤں کی آمد پر
تِتلیوں کے رنگوں سے راستے سجائیں گے

سائٹ منتظم

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔