اندھی شبو ؛ بے قرار راتو

ابن انشاء کی ایک اردو نظم

اندھی شبو ؛ بے قرار راتو ؛
اب تو کوئی جگمگاتا جگنو
اب کوئی تمتماتا مہتاب
اب تو کوئی مہرباں ستارہ
گلیوں میں قریب شام ہر روز
لگتا ہے جو صورتوں کا میلہ
آتا ہے جو قامتوں کا ریلا
کہتی ہیں حیرتی نگاہیں
کس کس کو ہجوم میں سے چاہیں
لیکن یہ تمام لوگ کیا ہیں
ا پنے سے دور ہیں جدا ہیں
ہم نے بھی تو جی کو خاک کر کے
دامان شکیب چاک کر کے
وحشت ہی کا آسرا لیا تھا
جینے کو جنوں بنا لیا تھا
اچھا نہ کیا۔۔۔۔مگر کیا تو
اندھی شبو ، بے قرار راتو

کب تک یونہی محفلوں کے پھرے
اچھے نہیں جی کے یہ اندھیرے
اب تو کوئی بھی دید نہیں ہے
ہونے کی بھی امید نہیں ہے
ہم بھی تو عہد پاستاں ہیں
ماضی کے ہزار داستاں ہیں
پیماں کے ہزار باغ توڑے
دامان وفا پہ داغ چھوڑے
دیکھیں جو انا کے روزنوں سے
پیچھے کہیں دور دور مدھم
پراں ہیں خلا کی وسعتوں میں
اب بھی کئی ٹمٹماتے جگنو
اب بھی کئی ڈبڈباتے مہتاب
اب بھی کئی دستاں ستارے
آزردہ بحال ، طپاں ستارے
پیچھے کو نظر ہزار بھاگے
لوگو رہ زندگی ہے آگے
جتنے یہاں راز دار غم ہیں
تارے ہیں کہ چاند ہے کہ ہم ہیں
ا ن کا تو اصول ہے یہ بانکے
اس دل میں نہ اور کوئی جھانکے
خالی ہوئے جام عاشقی کے
اکھڑے ہیں خیام عاشقی کے
قصے ہیں تمام عاشقی کے

ابن انشاء

سائٹ منتظم

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔