اندھیری شب کی مسافت پہ جھولی بھر کے چراغ
نکل پڑا ہوں میں لے کر سبھی سفر کے چراغ
عجیب تیرہ شبی ہے یہ کم نہیں ہوتی
بدل کے دیکھ لئے ہیں اِدھر اُدھر کے چراغ
نہ جانے کیسے اُجاڑا ہے زندگی نے ہمیں
کہ دیکھ دیکھ کے روتے ہیں رہگزر کے چراغ
ہم ایسے بھی کوئی روشن مزاج لوگ نہیں
ہمارے بجھنے پہ روئیں گے کیا سحر کے چراغ
ہماری روشنیوں پر کوئی نگہ نہ پڑی
کسی شمار میں آئے نہیں کھنڈر کے چراغ
یہ کیسے گھور اندھیرے بدن میں پھیل گئے
کہ مجھ میں رونے لگے ہیں اتر اتر کے چراغ
کوئی گیا ہوا لوٹا بھی ہے کبھی میثم
یہ کس امید پہ جلتے ہیں بام و در کے چراغ
میثم علی آغا