امیر کون غریب کون

ایک اردو تحریر از محمد یوسف برکاتی

میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں کو میرا آداب

میرے واجب الاحترام پڑھنے والو

دنیاوی اعتبار سے ہمارے درمیان رہنے والے وہ لوگ جو عالیشان بنگلے میں عالیشان گاڑیوں اور نوکر چاکر کے ساتھ رہائش پذیر ہوں جن کے پاس مال و دولت کی فراوانی ہو اور ضروریات زندگی کی ہر سہولت میسر ہو اسے امیر کہا جاتا ہے جبکہ ایک چھوٹے سے کرایہ کے گھر میں ایک پرانی موٹر سائکل کے ساتھ اپنے بچوں کے ساتھ مشکل حالات میں گزارا کرنے والے لوگوں کو غریب کہا جاتا ہے جبکہ ان دونوں کے درمیان میں یہاں بسنے والے لوگوں کی ایک تعداد اور بھی ہے جسے ہم متوسط طبقہ کہتے ہیں جو ” ہینڈ ٹو مائوتھ ” ہوتے ہیں یعنی اپنے آپ کو اچھا اور مناسب ظاہر کرنے کے لیئے ایک اچھی رہائش ہوگی لیکن کرایہ پر جبکہ ماہنہ انکم کم ہوگی لیکن لوگوں کے سامنے اچھے نظر آنے کی کوشش ہوگی مجبوری میں اور گزارا روتے پیٹتے ہورہا ہوگا لیکن ہم یہاں آج کی تحریر میں یہ دیکھنے اور سمجھنے کی کوشش کریں گے کہ شرعی اعتبار سے اور اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی نظر میں آخر” امیر کون غریب کون ” ۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں اللہ رب العزت نے قرآن مجید کی سورہ یاسین میں ارشاد فرمایا ہے کہ
وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ اَنْفِقُوْا مِمَّا رَزَقَكُمُ اللّٰهُۙ-قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَنُطْعِمُ مَنْ لَّوْ یَشَآءُ اللّٰهُ اَطْعَمَهٗۤ ﳓ اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ(47)

ترجمہ کنزالایمان::
اور جب ان سے فرمایا جائے اللہ کے دئیے میں سے کچھ اس کی راہ میں خرچ کرو تو کافر مسلمانوں کے لیے کہتے ہیں کہ کیا ہم اسے کھلائیں جسے اللہ چاہتا تو کھلادیتا تم تو نہیں مگر کھلی گمراہی میں ۔
ہمارے علماء اس آیت مبارکہ کی تفسیر میں فرمایا کہ یہ آیت کفارِ قریش کے بارے میں نازل ہوئی جن سے مسلمانوں نے انسانی ہمدردی کی بنا پر کہا تھا کہ تم اپنے مالوں کا وہ حصہ مسکینوں پر خرچ کرو جو تم نے اپنے گمان کے مطابق اللہ تعالیٰ کے لئے نکالا ہے۔ اس پر انہوں نے کہا کہ کیا ہم ان کو کھلائیں جنہیں اللہ تعالیٰ کھلانا چاہتا تھا تو کھلا دیتا۔یہ بات انہوں نے بخل اور کنجوسی کی وجہ سے مذاق اڑا نے کے طور پر کہی تھی اور یہ بات انتہائی باطل تھی کیونکہ دنیا امتحان کی جگہ ہے ، فقیری اور امیری دونوں آزمائشیں ہیں ، فقیر کی آزمائش صبر سے اور مالدار کی آزمائش اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنے سے ہوتی ہے ۔یہ اللہ تعالیٰ کی اپنی مخلوق میں حکمت اورمَشِیَّت ہے ۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں یاد رہے کہ مالی اعتبار سے اللہ رب العزت نے اپنے سب بندوں کو ایک جیسا نہیں بنایا بلکہ بعض کو امیر اور بعض کو غریب بنایا امیری اور غریبی کے اس فرق میں اللہ کی حکمت اپنے بندوں پر آزمائش ہے امیری پر آزمائش یہ ہوتی ہے کہ اللہ کے دیئے ہوئے مال میں وہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرتا ہے یا نہیں جبکہ غریب کی آزمائش یہ ہوتی ہے کہ وہ محتاجی میں یعنی غربت میں صبر اور شکر کا مظاہرہ کرتا ہے یا نہیں اس لیئے اللہ تعالیٰ جس کو امیر بناتا ہے اسے چاہئے کہ وہ اپنے مال و دولت کو اللہ تعالیٰ کی راہ میں بھی خرچ کریں اور غریبوں کو چاہئے کہ وہ غربت میں اللہ تعالیٰ کی رضا پر راضی رہکر اس کا شکر ادا کریں تاکہ دونوں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں سرخرو ہوسکیں ہمارے معاشرے میں عام طور پر امیری اور غریبی کی یہ ہی تعریف بیان کی جاتی ہے لیکن میرے خالق کائنات اور اس کے نبی حضور ﷺ کے نزدیک امیر وہ نہیں جس کے پاس مال و دولت کی فراوانی ہو روپیہ پیسہ کی کوئی کمی نہ ہو کام کرنے والے نوکر چاکر ہوں اور عیش و عشرت کا پورا سامان ہو بلکہ امیر وہ ہوتا ہے جس کے پاس مال و دولت کی فراوانی ہو اور وہ اس میں غریبوں اور مسکینوں کی مدد بھی کرے اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ بھی کرے مال و دولت ہونے کے باوجود عاجزی و انکساری کے جذبے سے سرشار ہو اخلاق کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑا ہو اسی طرح شرعی طور پر وہ غریب نہیں جس کے پاس مال و دولت نہ ہو جو اپنے بچوں کے ساتھ کسمپرسی کی حالت میں زندگی گزارنے پر مجبور ہو بلکہ غریب وہ ہے جس نے دنیاوی زندگی میں اللہ تعالیٰ کے احکامات پر عمل نہ کیا ہو حضور ﷺ کی سنتوں کا پاس نہ رکھا ہو لوگوں کے ساتھ رویہ درست نہ ہو اپنی زندگی گناہوں میں گزار کر شرمندہ بھی نہ ہوا ہو اور اللہ تعالیٰ کے حضور خالی ہاتھ کھڑا ہو اصل غریب وہ ہے ۔ لیکن امیر اور غریب ہونے کی نشانیاں کچھ اور بھی ہیں یہاں میں ایک خوبصورت واقعہ تحریر کرنے کی سعادت حاصل کروں گا ایک دفعہ ایک شخص جس کے پاس مال و دولت ،روپیہ پیسہ عزت و شہرت سب کچھ تھا اور اسے امیر ہونے پر بڑا فخر تھا ایک دن وہ اپنے بیٹے کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا تو اس کے بیٹے نے پوچھا کہ ابا جان یہ امیر کون ہوتا ہے ؟ اور غریب کون ہوتا ہے ؟ اور ان دونوں میں فرق کیا ہے ؟ تو اس شخص نے کہا کہ بیٹا امیر وہ ہوتا ہے جس کے پاس ضروریات زندگی کی ہر شہہ موجود ہو ، نوکر چاکر ہوں بڑا سا گھر ہو گاڑی ہو جیسے ہم لوگ اور غریب وہ ہوتا ہے جو اپنی زندگی تنگدستی میں گزارتا ہو اس کے پاس ضروریات زندگی تو دور کی بات ہے بنیادی ضرورت کی بھی کوئی شہہ مکمل نہیں ہوتی جیسے گائوں کے لوگ یا چھوٹے چھوٹے گھروں میں رہنے والے لوگ تو بیٹے نے پوچھا ابا جان یہ گائوں کیسا ہوتا ہے ؟ تو اس شخص نے کہا کہ آئو آج میں ایک جانے والے سے ملواتا ہوں جو گائوں میں رہتا ہے ہم گائوں کی سیر بھی کریں گے اور تمہیں یہ بھی بتائوں گا کہ بچارے غریب لوگ گائوں میں کس طرح اپنی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں ۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں یوں ایک دن وہ امیر اور دولتمند شخص اپنے بیٹے کو لیکر گاؤں کی طرف چل دیا گاؤں پہنچ کر دونوں نے ایک جاننے والے غریب کسان کے گھر میں وقت گزارا اس غریب نے انہیں گائوں کی سیر بھی کروائی بیٹا خوش تھا وہ امیر شخص اپنے بیٹے کو دکھانا چاہتا تھا کہ غریب اور گائوں میں رہنے والے لوگوں کی زندگی کتنی مشکل ہوتی ہے جب شام ہونے لگی تو اس شخص نے بیٹے سے کہا کہ بیٹا واپس چلیں تو بیٹا کہنے لگا کہ ہاں چلیں راستے میں اس امیر شخص نے اپنے بیٹے سے کہا کہ بیٹا بتائو تمہیں گاؤں کیسا لگا ؟ اور غریب لوگوں کی مشکل زندگی کو تم نے کیسے دیکھا ؟ تو بیٹے نے کہا کہ ہاں اباجان لگتا ہے مجھے آج امیر اور غریب کا فرق بہت اچھی طرح سے معلوم ہوگیا لیکن مجھے افسوس ہے کہ یہ فرق آج تک آپ کو کیوں معلوم نہ ہوسکا ؟ تو وہ امیر شخص اپنے بیٹے کی بات سن کر حیران ہوگیا اور پوچھنے لگا کہ تم کہنا کیا چاہتے ہو ؟ تو بیٹے نے کہا کہ اباجان ہمارے پاس ایک چھوٹا سا سوئمنگ پول ہے جس کو ہمارے علاوہ کوئی استعمال نہیں کرسکتا جبکہ گاؤں میں ایک صاف ستھرا چشمہ تھا جہاں پورے گاؤں کے لوگ نہاتے بھی ہیں اور وہ صاف پانی پیتے بھی ہیں اباجان ہم رات کو اندھیرا ہو جائے تو ٹیوب لائٹس جلاتے ہیں جبکہ یہ لوگ کھلے صحن میں چاند اور ستاروں کی روشنی میں رہتے ہیں ہمارے پاس گارڈز ہوتے ہیں جن کو ہم اپنی حفاظت کے لیئے رکھتے ہیں جبکہ گاؤں کے سارے لوگ ایک دوسرے کی حفاظت خود کرتے ہیں اباجان ہمارے پاس ایک لیب ٹاپ ہے جو صرف آپ استعمال کرتے ہیں کوئی دوسرا ہاتھ بھی لگائے تو غصہ کرجاتے ہیں جبکہ گاؤں والوں کے پاس ایک ٹیلی ویژن ہے جسے شام ہوتے ہی پورے گاؤں کے لوگ جمع ہوکر دیکھتے ہیں سارے رشتہ دار دوست احباب اور سب کے چہرے پر مسکراہٹ ہوتی ہے اور جس کا وہ ٹی وی ہوتا ہے اس کے ماتھے پر ایک بھی بل نظر نہیں آتا اباجان ہم زیادہ تر کھانا آرڈر کرکے منگوا کر کھاتے ہیں جبکہ گاؤں کے لوگ یہ ہی کھانا خود اگاتے ہیں اباجان ہمیں ہر وقت یہ کھٹکا لگا رہتا ہے کہ پڑوس میں سے کوئی کچھ مانگنے کے لیئے دروازا نہ بجادے جبکہ گاؤں میں سب کی سب چیزیں سانجھی ہیں تیری میری والی وہاں کوئی بات نہیں ۔ بیٹے کی بات سن کر وہ امیر شخص خاموش ہوگیا پھر بیٹے نے کہا کہ آپ کا بہت شکریہ اباجان آج آپ نے مجھے دکھایا کہ ہم کتنے غریب ہیں میں نے آج سیکھ لیا کہ انسان مال و دولت سے امیر نہیں بنتا بلکہ سادگی ، محبت ، خلوص , دوستی، ہم آہنگی، اور خاندان ہمیں امیر بناتے ہیں کیونکہ حقیقی دولت روپیہ پیسہ میں نہیں ہے بلکہ سادگی اور بھرپور رشتوں میں ہے جس کی بھرپور کمی کی وجہ سے سب کچھ ہونے کے باوجود ہم انتہائی غریب رہ گئے ۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں اس مختصر واقعہ سے ہمیں امیر اور غریب کا ایک اور واضح فرق نظر آیا اور یہ اندازہ ہوا کہ واقعی مال و دولت کی فراوانی ہونا ہی اصل امیری نہیں ہے بلکہ کچھ بھی نہ ہونے کے باوجود شکرانے کے طور پر چہرے پر مسکراہٹ اور ہر کسی کو اپنا سمجھ کر زندگی گزارنے کا نام ہی امیری ہے اور اصل غریب وہ نہیں جنہیں ہم لوگ غریب سمجھتے ہیں بلکہ غریب تو وہ ہیں جن کے پاس مال و دولت روپیہ پیسہ گاڑی بنگلہ اور سب کچھ ہونے کے باوجود انسانیت نام کی کوئی چیز نہیں ہے جو کسی کو اپنے جیسا یا اپنے سے آگے دیکھنا اپنی توہین سمجھتے ہیں جو اپنی دولت میں سے اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنا اس لیئے مناسب نہیں سمجھتے کہ بقول ان کے یہ سب کچھ اپنی محنت سے انہوں نے جمع کیا ہےتو پھر اللہ رب العزت کی طرف سے ان پر عذاب بھی مسلط ہوتا ہے اور ہوگا اللہ تعالیٰ اور اس کے حبیب کریم ﷺ کے نزدیک اصل غریب ایسے ہی لوگ ہیں ۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں آج کی اس تحریر ” امیر کون غریب کون ” میں امیر اور غریب کے دنیاوی اعتبار سے اور مذہبی اعتبار سے فرق کو واضح کرنے کی میں نے ایک چھوٹی سی کوشش کی ہے صرف اس لیئے کہ ہمیں معلوم ہو کہ ہم یہاں جن لوگوں کو امیر یا غریب سمجھتے ہیں اصل میں وہ امیر یا غریب ہوتے ہی نہیں بلکہ امیر اور غریب کی اصل پہچان وہ ہے جو ہمیں اللہ تعالیٰ کی کتاب یعنی قرآن اور حضور ﷺ کی احادیث مبارکہ سے ملتی ہے اور ہمیں ایسے لوگوں کے لیئے ہدایت کی دعا کرنی چاہئے کہ اللہ رب العزت انہیں ہدایت دے اور جب تک مقدر میں لکھی ہوئی زندگی باقی ہے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں توبہ کرکے اپنی آخرت سنوار لیں ورنہ اللہ تعالیٰ کا عذاب بڑا سخت ہے ۔
آج کی اس تحریر کا اختتام میں ایک بہت ہی خوبصورت بات سے کرنا چاہوں گا جو میں نے کہیں پڑھی تھی کہ ” سکھ اور دکھ ہر انسان کو اپنے مقدر سے ملتے ہیں امیری اور غریبی کا اس سے کوئی لینا دینا نہیں ہوتا کیونکہ رونے والے عالیشان محلوں میں بھی روتے ہیں جبکہ جن کی قسمت میں خوشیاں ہوتی ہیں وہ جھونپڑی میں ہنستے رہتے ہیں ” ۔ آخر میں ہمیشہ کی طرح دعا ہے کہ اللہ رب العزت مجھے ہمیشہ سچ لکھنے ہمیں پڑھنے سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین آمین بجاہ النبی الکریم ﷺ مجھے دعاؤں میں خاص طور پر یاد رکھیئے گا ۔

محمد یوسف برکاتی