الفاظ کے چنگل کے نہیں

ایک اردو غزل از رشید حسرت

الفاظ کے چنگل کے نہیں دل کے کھرے ہم
بیٹھے تھے جہاں پر سو وہیں پر ہیں دھرے ہم

تقدیر کی دیوی نے کہاں لا کے پچھاڑا
ڈوبے تھے کہاں اور کہاں جا کے ترے ہم

ہم لوگ فقیرانہ مزاج اب بھی وہی ہیں
ہم وہ تو نہیں "میں” کو جو محفل میں کرے "ہم”

وہ اور کوئی ہوں گے جو شہرت پہ مٹے ہیں
ہم اور ہی ڈھب کے ہیں سو رہتے ہیں پرے ہم

اب کھولو بھی در ہم سے یہ کیا پوچھ رہے ہو
یہ ہم ہیں، ارے ہم ہیں، ارے ہم ہیں، ارے ہم

حد صبر کی ہوتی ہے، کوئی بندہ نوازی
اب در پہ ترے بیٹھے ہیں لو ضد کے بھرے ہم

حسرتؔ کو بڑا خشک مزاج آپ نے پایا
اوپر سے بڑے خشک ہیں اندر سے ہرے ہم

رشید حسرتؔ

مورخہ ۲۹ نومبر ۲۰۲۶، دو پہر ۰۲ بج کر ۵۰ منٹ پر مکمل ہوئی۔

رشید حسرت

رشید حسرت نے 1981 سے باقاعدہ شاعری کا آغاز کیا۔ ان کی شاعری اخبارات، ادبی رسائل اور کل پاکستان و کل پاک و ہند مشاعروں میں شائع اور پیش ہوتی رہی۔ پی ٹی وی کوئٹہ کے مشاعروں میں ان کی شرکت ان کی تخلیقی شناخت کا آغاز تھی، مگر بعد میں انہوں نے اجارہ داریوں اور غیر منصفانہ رویّوں سے تنگ آ کر اس نظام سے علیحدگی اختیار کی۔ ان کے پانچ شعری مجموعے شائع ہو چکے ہیں۔ سب کے سب اپنی ذاتی جیب سے، جو ان کے خلوص اور ادب سے والہانہ لگاؤ کی علامت ہیں۔ رشید حسرت اس طبقے کے نمائندہ شاعر ہیں جنہوں نے ادب کو کاروبار نہیں بلکہ عبادت سمجھا۔