الفاظ کے چنگل کے نہیں دل کے کھرے ہم
بیٹھے تھے جہاں پر سو وہیں پر ہیں دھرے ہم
تقدیر کی دیوی نے کہاں لا کے پچھاڑا
ڈوبے تھے کہاں اور کہاں جا کے ترے ہم
ہم لوگ فقیرانہ مزاج اب بھی وہی ہیں
ہم وہ تو نہیں "میں” کو جو محفل میں کرے "ہم”
وہ اور کوئی ہوں گے جو شہرت پہ مٹے ہیں
ہم اور ہی ڈھب کے ہیں سو رہتے ہیں پرے ہم
اب کھولو بھی در ہم سے یہ کیا پوچھ رہے ہو
یہ ہم ہیں، ارے ہم ہیں، ارے ہم ہیں، ارے ہم
حد صبر کی ہوتی ہے، کوئی بندہ نوازی
اب در پہ ترے بیٹھے ہیں لو ضد کے بھرے ہم
حسرتؔ کو بڑا خشک مزاج آپ نے پایا
اوپر سے بڑے خشک ہیں اندر سے ہرے ہم
رشید حسرتؔ
مورخہ ۲۹ نومبر ۲۰۲۶، دو پہر ۰۲ بج کر ۵۰ منٹ پر مکمل ہوئی۔