عجب سے عجب تیرا اسلوب دنیا
تمنا ہے محشر کی محبوب دنیا
تھا جو زندگی بھر نگاہوں میں کمتر
ہوا مرنے کے بعد مطلوب دنیا
ہوس کے پجاری صلہ خاک پائیں
فقیروں کے آگے ہے مغلوب دنیا
ہے زہرِ پیالہ کہ ہے دار سچ کی
ہے مکّار کاذب بہت خوب دنیا
جہاں غافلوں کا ٹھکانہ بنا ہے
جسے عشق ہے اس کی مصلوب دنیا
وصال عباسی