ایسے اُس ہاتھ سے گرے ہم لوگ

ضیا مذکور کی ایک اردو غزل

ایسے اُس ہاتھ سے گرے ہم لوگ
ٹوٹتے ٹوٹتے بچے ہم لوگ

اپنا قصہ سنا رہا ہے کوئی
اور دیوار کے بنے ہم لوگ

وصل کے بھید کھولتی مٹی
اور چادریں جھاڑتے ہوئے ہم لوگ

اس کبوتر نے اپنی مرضی کی
سیٹیاں مارتے رہے ہم لوگ

حافظے کے لئے دوا کھائی
اور بھی بھولنے لگے ہم لوگ

پوچھنے پر کوئی نہیں بولا
کیسے دروازہ کھولتے ہم لوگ

ضیا مذکور

ضیا مذکور

نام ضیاءالقمر قلمی نام ضیا مذکور آبائی شہر بہاول پور تعلیم بی اے آنرز انگریزی پیشہ لیکچرار انگریزی ایم ٹی بی کالج صادق آباد