ایسے بجھے ضمیر کہ روشن نہیں ہوئے
بے نور چشم و دل سے یہ اہلِ زمیں ہوئے
شاید کہیں پہ پھول کھلے اعتبار کا
برسوں گزر گئے ہیں ہمیں بے یقیں ہوئے
تیری ہنسی سے پھوٹنے والے طلسم سے
میں کیا کہ منظروں کے بھی چہرے حسیں ہوئے
دشتِ سخن میں آیا جو کوئی ہنر شناس
ہم بھی دکھائی دیں گے اگر ہم کہیں ہوئے
اب وحی ہے نہ اہلِ زمیں سے مکالمہ
صدیاں ہوئیں خدا کو بھی گوشہ نشیں ہوئے
تنہائیوں کے دشت پھلے اس لیے فگار
اک ایک کر کے گم سبھی دل کے مکیں ہوئے
سلیم فگار