اگرچہ لاکھ زمانے میں سلسلے ہیں نئے
اس آدمی نے کہاں ڈھنگ سیکھنے ہیں نئے
وہی ہیں حیرتیں اسکی وہی ہے اسکا جنوں
نئی ہیں وحشتیں اس کی نہ واہمے ہیں نئے
ضرور کھائے گا اک روز پھر پرانا فریب
سمجھ رہا ہے کہ اب دوست مل گئے ہیں نئے
ہمیں تو علم ہے رنگوں سے رنگ بنتے ہیں
جنہیں نگاہ نہیں انکو لگ رہے ہیں نئے
حضور آپ نہ یوں اہتمام تازہ کریں
جناب آپ کہاں میرے سامنے ہیں نئے
نکل کے جائے بھی کس سمت نامرادی دل
نہ منزلیں ہیں نئی اور نہ فاصلے ہیں نئے
بس ایک آنکھ سے دوری بس ایک دل کا عدم
پرانے پن کی کٹھالی میں ڈھل گئے ہیں نئے
خوشا اے جذبہ انکار و جراتِ تشکیک
یہی زمیں ہے جہاں پھول کھل سکے ہیں نئے
تمہیں ہے نیند تمہارا قدیم مسئلہ ہے
ہمیں ہے آنکھ ہمیں خواب دیکھنے ہیں نئے
عمران ہاشمی