افسانہ چاہتے تھے وہ افسانہ بن گیا

عبدالحمید عدم کی ایک اردو غزل

افسانہ چاہتے تھے وہ افسانہ بن گیا
میں حسن اتفاق سے دیوانہ بن گیا

وہ اک نگاہ دیکھ کے خود بھی ہیں شرمسار
نا آگہی میں یوں ہی اک افسانہ بن گیا

موج ہوا سے زلف جو لہرا گئی تری
میرا شعور لغزش مستانہ بن گیا

حسن ایک اختیار مکمل ہے آپ نے
دیوانہ کر دیا جسے دیوانہ بن گیا

ذکر اس کا گفتگو میں جو شامل ہوا عدمؔ
جو شعر کہہ دیا وہ پری خانہ بن گیا

عبدالحمید عدم

سائٹ منتظم

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔