آستانے بنائے جاتے ہیں

ایک اردو غزل از ارشاد نیازی

آستانے بنائے جاتے ہیں
بس ٹھکانے بناتے جاتے ہیں

کوئی منظر نیا نہیں بنتا
سب پرانے بناتے جاتے ہیں

کیا ستم ہے فروغِ دربدری
آشیانے بنائے جاتے ہیں

بے دھڑک آپ اٹھائیے تلوار
ہم نشانے بنائے جاتے ہیں

کیا کہا ہجر کی مسافت سے
دن, زمانے بنائے جاتے ہیں

دل اٹھاتا ہے بوجھ وحشت کا
یونہی شانے بنائے جاتے ہیں

اپنے کردار کے لیے ارشاد
تانے بانے بنائے جاتے ہیں

ارشاد نیازی

ارشاد نیازی

نیازی تخلص رکھنے والے ارشاد احمد17 اپریل 1979 کو سیالکوٹ ایک قصبے چوبارہ میں پیدا ہوئے ۔ والدہ گھریلو خاتون تھیں اور والد صاحب شعبہ ء حکمت سے وابستہ تھے چار بھائی ہیں ایک بھائی اور شاعری کرتا ہے ابتدائی تعلیم گورنمنٹ ہائی سکول چوبارہ سے، ایف اے پرائیوٹ اور بی اے علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی سے کیا ۔