آگ لہرا کے چل رہے ہو اِسے آنچل کر دو

اردو غزل از بشیر بدر

آگ لہرا کے چل رہے ہو اِسے آنچل کر دو
تم مجھے رات کا جلتا ہوا جنگل کر دو

چاند سا مصرع اکیلا ہے مرے کاغذپر
چھت پہ آجاؤ مرا شعر مکمل کر دو

میں تمہیں دل کی سیاست کا ہنر دیتا ہوں
اب اسے دھوپ بنا دو مجھے بادل کر دو

تم مجھے چھوڑکے جاؤ گے تو مر جاؤں گا
یوں کرو جانے سے پہلے مجھے پاگل کر دو

اپنے آنگن کی اُداسی سے ذرا بات کرو
نیم کے سوکھے ہوئے پیڑ کو صندل کر دو​

سائٹ منتظم

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔