زمستاں ہے یہاں تو ہو رہا

ایک اردو غزل از رشید حسرت

زمستاں ہے یہاں تو ہو رہا انسان یخ بستہ

دھرا تھا صحن میں تو کیوں نہ ہو سامان یخ بستہ

ہمارے دل کی کیفیت اسی منظر میں پاؤ گے

حویلی جوں کوئی ویران سی سنسان، یخ بستہ

مسلماں کی زبوں حالی پہ لب بستہ ہیں، چپ سے ہیں

سسک کر رہ گئے دل میں فقط ایمان یخ بستہ

مجھے زنداں میں ڈالے بھی، نہیں چپ بیٹھنے والا

خودی دم توڑ جائے گا ترا فرمان یخ بستہ

مَری تھی ماں مگر معصوم بچہ دودھ پیتا تھا

نچوڑے جا رہا تھا بے خبر پستان یخ بستہ

اُنہیں پیڑوں کے سائے میں کسی جوڑے کو دیکھا تو

مجھے بھی یاد آئے ٹوٹ کر پیمان یخ بستہ

گھڑی بھر چین سے جینا نہیں آیا مقدر میں

کسی دن جان لے لیں گے مرے ارمان یخ بستہ

بدن پر ہو گیا لرزہ سا طاری جب یہ دیکھا تو

پڑا تھا دشت میں کوئی جواں بے جان یخ بستہ

مجھے یہ خوش گمانی، بے غرض حسرتؔ کیے ہوں گے

پگھلتے جا رہے ہیں اب مگر احسان یخ بستہ

رشید حسرت ٢٢، نومبر ۲۰۲۵

رشید حسرت

رشید حسرت نے 1981 سے باقاعدہ شاعری کا آغاز کیا۔ ان کی شاعری اخبارات، ادبی رسائل اور کل پاکستان و کل پاک و ہند مشاعروں میں شائع اور پیش ہوتی رہی۔ پی ٹی وی کوئٹہ کے مشاعروں میں ان کی شرکت ان کی تخلیقی شناخت کا آغاز تھی، مگر بعد میں انہوں نے اجارہ داریوں اور غیر منصفانہ رویّوں سے تنگ آ کر اس نظام سے علیحدگی اختیار کی۔ ان کے پانچ شعری مجموعے شائع ہو چکے ہیں۔ سب کے سب اپنی ذاتی جیب سے، جو ان کے خلوص اور ادب سے والہانہ لگاؤ کی علامت ہیں۔ رشید حسرت اس طبقے کے نمائندہ شاعر ہیں جنہوں نے ادب کو کاروبار نہیں بلکہ عبادت سمجھا۔