زخموں کی طرح شمع دل زار جلی ہے
تب جا کے کہیں عمر شب تار ڈھلی ہے
شاخوں پہ کوئی گل ہے سلامت نہ کلی ہے
گلشن میں صبا صورت تلوار چلی ہے
اُن صبح پرستوں کا ہے کیا حال نہ پوچھو
گھبرا کے جو کہتے ہیں کہ ہاں رات بھلی ہے
آنکھوں میں ہی گُھلتا ہے نہ رکتا ہے سر بام
ڈھلتا ہوا سورج ہے کہ پارے کی ڈلی ہے
اے محتسب شہر ہمیں گھور کے مت دیکھ
اپنا بھی وہیں گھر ہے جہاں تیری گلی ہے
ٹوٹی بھی تو بے جاں نہ بنا پائے گی جاں کو
امید کہ جو یاس کے ہاتھوں میں پلی ہے
ہر تند نظر دیکھ رہی ہے وہ چُھپا ہاتھ
حالات کے چہرے پہ نمی جس نے ملی ہے
منزہ انور گوئیندی