زخموں کی طرح شمع دل زار جلی ہے

منزہ انور گوئندی کی ایک اردو غزل

زخموں کی طرح شمع دل زار جلی ہے
تب جا کے کہیں عمر شب تار ڈھلی ہے

شاخوں پہ کوئی گل ہے سلامت نہ کلی ہے
گلشن میں صبا صورت تلوار چلی ہے

اُن صبح پرستوں کا ہے کیا حال نہ پوچھو
گھبرا کے جو کہتے ہیں کہ ہاں رات بھلی ہے

آنکھوں میں ہی گُھلتا ہے نہ رکتا ہے سر بام
ڈھلتا ہوا سورج ہے کہ پارے کی ڈلی ہے

اے محتسب شہر ہمیں گھور کے مت دیکھ
اپنا بھی وہیں گھر ہے جہاں تیری گلی ہے

ٹوٹی بھی تو بے جاں نہ بنا پائے گی جاں کو
امید کہ جو یاس کے ہاتھوں میں پلی ہے

ہر تند نظر دیکھ رہی ہے وہ چُھپا ہاتھ
حالات کے چہرے پہ نمی جس نے ملی ہے

منزہ انور گوئیندی

منزہ انور گوئیندی

تعارف منزہ انور گوئیندی کا تعلق ادبی گھرانے سے ہے ان کے والد انور گوئیندی کا شمار مشاہیر ادب میں ھوتا ھے اور وہ اردو ادب کے بانیوں میں سے ھیں ۔ سرگودھا میں کامران مشاعرے اور کامران رسالے کے ذریعے انہوں نے ادب کی آبیاری کی ان کی وفات کے بعد یہ مسند ان کی اکلوتی بیٹی منزہ انور گوئیُندی نے سنبھالی جو ایک نامور افسانہ نگار ، کالم نگار اور شاعرہ ھونے کے ساتھ ساتھ کامران ادبی رسالہ کی مدیرہ بھی ہیں ۔ منزہ انور گوئیندی عالمی شہرت یافتہ قلمکار اور صدا کار ہیں ۔ گزشتہ بیس سال سے ریڈیو پاکستان سے منسلک ھیں اور علمی و ادبی پروگرام پیش کر رہی ھیں ۔ منزہ انور گوئیُندی کو ملکی اور بین الاقوامی سطح پر کئی ایوارڈز اور اعزازات اور میڈلز دیے جا چکے گئے ھیں ۔ حال ھی میں دورہ برطانیہ کے دوران انہیں سفیر ادب کا خطاب بھی عطا کیا گیا ۔ اور ان کے اعزاز میں سکاٹ لینڈ بین الاقوامی مشاعرے کا انعقاد بھی کیا گیا منزہ گوئیندی کے خاندان کا شمار کارکنان تحریک پاکستان میں ھوتا ھے اور اس ضمن میں انہیں سابق صدر پاکستان عارف علوی کی جانب سے گولڈ میڈل بھی دیا گیا