سندھ کے ایک چھوٹے سے گاؤں باسورو کی مٹی سے اُٹھنے والی تیرہ سالہ بچی زاہم شاید خود نہیں جانتی کہ اُس کی آنکھوں میں جگمگاتا خواب کتنا بڑا پیغام رکھتا ہے۔
چند روز قبل سویڈن کی سفیر الیکزینڈرا برگ فون لنڈے نے یونیسف پاکستان کے ساتھ اپنے ایک دورے کے دوران زاہم سے ملاقات کی۔
اس مختصر ملاقات کی تصویر میں جو مسکراہٹ قید ہے، وہ دراصل پاکستان کی لاکھوں بیٹیوں کے خوابوں کی تعبیر ہے۔
زاہم نے کہا کہ وہ بڑی ہو کر پولیس انسپکٹر بننا چاہتی ہے۔
یہ جملہ بظاہر سادہ لگتا ہے، مگر ایک دیہی بچی کے لبوں سے نکلنے پر یہ خواب نہیں بلکہ اعلانِ حوصلہ بن جاتا ہے۔
جہاں بچیوں کو اکثر اسکول جانے سے روکا جاتا ہے، وہاں زاہم کا یہ خواب ایک خاموش انقلاب کی صورت رکھتا ہے۔
زاہم کی کہانی صرف ایک گاؤں کی نہیں۔
یہ اُن تمام پاکستانی بچیوں کی کہانی ہے جو غربت، محرومی اور روایتوں کے بوجھ کے باوجود زندگی بدلنے کی اُمید رکھتی ہیں۔
ان بچیوں کے لیے تعلیم صرف کتاب نہیں بلکہ ایک دروازہ ہے، روشنی کا، خودداری کا اور عزت کا۔
ان کی آنکھوں میں چمکتی اُمیدیں ہمیں یاد دلاتی ہیں کہ قومیں تبھی اُٹھتی ہیں جب اُن کی بیٹیاں خواب دیکھنا سیکھ جائیں۔
یونیسف پاکستان ملک بھر میں بچوں اور خصوصاً بچیوں کی تعلیم، صحت اور تحفظ
دیہی علاقوں میں اسکولوں کی بہتری، اساتذہ کی تربیت، صاف پانی اور صحت کے بنیادی مراکز کی فراہمی جیسے اقدامات انہی خوابوں کو حقیقت میں بدلنے کی کوشش ہیں۔
یونیسف کی یہ کاوشیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ اگر ریاستی ادارے، عالمی تنظیمیں اور معاشرہ مل کر کردار ادا کریں تو ہر زاہم کے خواب کو تعبیر مل سکتی ہے۔
یہ منظر بھی کتنا خوبصورت ہے کہ ایک غیرملکی سفیر پاکستان کے ایک گاؤں میں کھڑی ہے اور ایک بچی کے خواب کو دنیا تک پہنچا رہی ہے۔
یہ منظر ہمیں یاد دلاتا ہے کہ جب عالمی برادری ہماری بیٹیوں کی صلاحیتوں کو تسلیم کر سکتی ہے تو ہم خود اُن پر یقین کیوں نہیں کرتے۔
زاہم کی مسکراہٹ کے ساتھ یہ پیغام پوری دنیا میں گیا کہ پاکستان کی بیٹیاں صرف خواب نہیں دیکھتیں بلکہ اُنہیں پورا کرنے کا حوصلہ بھی رکھتی ہیں۔
اب یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم ہر زاہم کے لیے وہ ماحول بنائیں جہاں تعلیم، تحفظ اور مواقع میسر آئیں۔
جہاں والدین اپنی بیٹی کو اسکول بھیجنے پر فخر کریں۔
جہاں کوئی خواب ناممکن نہ لگے۔
جہاں پولیس انسپکٹر بننے کی خواہش کسی مذاق کا نشانہ نہ بنے بلکہ تعریف کی علامت ہو۔
زاہم کی آنکھوں میں چمکتی روشنی ہمیں بتاتی ہے کہ پاکستان کا مستقبل اُمید سے خالی نہیں۔
یہ ننھی بیٹیاں محض بیٹیاں نہیں بلکہ اس قوم کے مستقبل کی ضمانت ہیں۔
انہیں خواب دیکھنے دو،
انہیں پڑھنے دو،
انہیں وہ اُڑان لینے دو جس کی اجازت فطرت نے خود دی ہے۔
کیونکہ جہاں بیٹیاں خواب دیکھنے لگیں،
وہاں قومیں جھکنا چھوڑ دیتی ہیں۔
یوسف صدیقی