یوں برملا یہ اشک بہانا فضول ہے
زخمِ جگر کسی کو دکھانا فضول ہے
ہو دل میں زہر، ہاتھ ملانا فضول ہے
آندھی کی زد میں دیپ جلانا فضول ہے
بے رحم دفعتا جو گلستاں جلا گئے
ان سے وفا کی آس لگانا فضول ہے
جو دشت کے غبار میں گُم سُم رہے انھیں
قصہ سمندروں کا سنانا فضول ہے
درویش نے معاملہ چہرے سے پڑھ لیا
یہ بات کا گھمانا چھپانا فضول ہے
کچھ جیب گرم ہو تبھی جا کے منائیے
ان کو محبتوں سے منانا فضول ہے
یہ آج کس کو مانگ رہے ہیں دعاؤں میں
کل کہہ رہے تھے دل کا لگانا فضول ہے
جس پر کھلا نہیں ہے مرے دل کا حال زینؔ
اس کیلیے لہو کا جلانا فضول ہے
زین علی آصف