وقت کی قدر اور انسان کی غفلت

مصنف : نعمان علی بھٹی

دنیا کی سب سے قیمتی دولت اگر کوئی ہے تو وہ وقت ہے۔ یہ ایک ایسی نعمت ہے جو ہر انسان کو برابر دی جاتی ہے، مگر اس کا استعمال ہر شخص مختلف انداز میں کرتا ہے۔ کوئی اسی وقت کو اپنی کامیابی، علم اور ترقی کا ذریعہ بنا لیتا ہے جبکہ کوئی اُسے لاپرواہی، سستی اور بے مقصد مصروفیات میں ضائع کر دیتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ انسان اکثر اُس چیز کی قدر سب سے آخر میں کرتا ہے جو اُس کے پاس سب سے زیادہ قیمتی ہوتی ہے۔
زندگی کا ہر لمحہ خاموشی سے گزرتا رہتا ہے۔ وقت نہ کبھی رکتا ہے، نہ واپس آتا ہے اور نہ ہی کسی کے انتظار میں ٹھہرتا ہے۔ مگر انسان اپنی مصروفیات، خواہشات اور دنیاوی دوڑ میں اس قدر گم ہو چکا ہے کہ اُسے احساس ہی نہیں ہوتا کہ اُس کی زندگی کا ایک اور دن کم ہو گیا۔ ہم اکثر یہ سوچتے رہتے ہیں کہ ابھی بہت وقت باقی ہے، ابھی بہت کچھ کر لیں گے، مگر حقیقت یہ ہے کہ زندگی کسی یقین کا نام نہیں۔
آج کے دور میں سب سے بڑی بدقسمتی یہ ہے کہ انسان کے پاس وقت ہونے کے باوجود وقت نہیں۔ موبائل فون، سوشل میڈیا اور غیر ضروری مصروفیات نے انسان کو اس قدر الجھا دیا ہے کہ وہ اپنے اصل مقصد سے دور ہوتا جا رہا ہے۔ گھنٹوں موبائل اسکرین پر گزار دینا آسان لگتا ہے مگر چند منٹ والدین کے ساتھ بیٹھنا، کتاب پڑھنا یا خود سے بات کرنا مشکل محسوس ہوتا ہے۔
کبھی انسان وقت کو اپنے قابو میں رکھتا تھا، مگر آج وقت انسان کو اپنے پیچھے دوڑا رہا ہے۔ ہر شخص جلدی میں ہے۔ کسی کو سکون سے کھانا کھانے کی فرصت نہیں، کسی کے پاس اپنے بچوں کے لیے وقت نہیں اور کسی کو اپنی صحت کی فکر نہیں۔ ترقی کی اس دوڑ نے انسان کو تھکا تو دیا ہے مگر مطمئن نہیں کیا۔
اصل مسئلہ یہ نہیں کہ ہمارے پاس وقت کم ہے، بلکہ مسئلہ یہ ہے کہ ہماری ترجیحات بدل چکی ہیں۔ ہم اُن چیزوں پر زیادہ وقت خرچ کرتے ہیں جو وقتی خوشی دیتی ہیں، جبکہ اُن کاموں کو نظر انداز کر دیتے ہیں جو ہماری شخصیت اور مستقبل کو بہتر بنا سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج انسان کے پاس معلومات تو بہت ہیں مگر حکمت کم ہوتی جا رہی ہے۔
وقت کی سب سے بڑی حقیقت یہ ہے کہ یہ خاموشی سے انسان کو بدل دیتا ہے۔ ایک دن بچپن ختم ہو جاتا ہے، ایک دن جوانی گزر جاتی ہے اور ایک دن انسان ماضی کی یادوں میں کھو کر سوچتا ہے کہ کاش اُس نے اپنے وقت کی قدر کی ہوتی۔ مگر اُس وقت پچھتاوے کے سوا کچھ باقی نہیں رہتا۔
ہمارے معاشرے میں اکثر نوجوان اپنی زندگی کا قیمتی وقت دوسروں سے مقابلہ کرنے میں ضائع کر دیتے ہیں۔ کوئی کسی کی دولت دیکھ کر پریشان ہے، کوئی کسی کی شہرت دیکھ کر بے چین ہے اور کوئی اپنی زندگی کو دوسروں کی کامیابیوں سے تول رہا ہے۔ حالانکہ ہر انسان کا سفر مختلف ہوتا ہے۔ اگر انسان اپنی توجہ دوسروں کے بجائے خود کو بہتر بنانے پر مرکوز کرے تو شاید اُس کی زندگی زیادہ پُرسکون ہو جائے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ وقت صرف اُن لوگوں کی قدر کرتا ہے جو خود وقت کی قدر کرتے ہیں۔ کامیاب لوگ عام انسانوں سے زیادہ ذہین نہیں ہوتے، وہ صرف اپنے وقت کو بہتر انداز میں استعمال کرنا جانتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ ہر دن ایک نئی فرصت ہے اور ہر لمحہ ایک نئی ذمہ داری۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنی زندگی میں توازن پیدا کریں۔ دنیا کی مصروفیات ضرور پوری کریں مگر اپنے رشتوں، اپنی صحت، اپنی عبادات اور اپنے سکون کو نظر انداز نہ کریں۔ کیونکہ وقت صرف پیسہ کمانے کے لیے نہیں بلکہ ایک بہتر انسان بننے کے لیے بھی دیا گیا ہے۔
اگر انسان روزانہ چند لمحے خاموشی سے اپنے بارے میں سوچ لے، اپنے گزرے ہوئے دن کا حساب کر لے اور اپنی غلطیوں کو سمجھنے کی کوشش کرے تو شاید اُس کی زندگی پہلے سے بہتر ہو سکتی ہے۔ کامیابی صرف دولت یا شہرت کا نام نہیں، بلکہ اصل کامیابی یہ ہے کہ انسان وقت گزرنے کے ساتھ ایک بہتر، سمجھدار اور بااخلاق انسان بنتا جائے۔
آخر میں شاید یہی کہا جا سکتا ہے کہ وقت دنیا کی وہ واحد دولت ہے جو ایک بار چلی جائے تو دوبارہ واپس نہیں آتی۔ اس لیے ضروری ہے کہ انسان ہر گزرتے لمحے کی قدر کرے، کیونکہ زندگی دراصل لمحوں کا ہی دوسرا نام ہے۔

خیر اندیش
نعمان علی بھٹی

سائٹ منتظم

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔