انسانی حقوق کا ڈھونگ اور گورے رنگ کی پرچار

از پروفیسر اکرم ثاقب

اشتہارات کی چکا چوند میں چھپا یہ نفسیاتی کھیل محض تجارتی حربہ نہیں، بلکہ مغرب کی اس گہری نسل پرستانہ اور دوغلی پالیسی کا آئینہ ہے جو ایک طرف انسانی حقوق اور مساوات کا ڈھونگ رچاتا ہے اور دوسری طرف اپنی کارپوریٹ طاقت کے ذریعے گورے اور کالے کے فرق کو مزید گہرا کر رہا ہے۔ مغرب، جو دنیا بھر میں "نسل پرستی کے خاتمے” اور "بلیک لائیوز میٹر” (Black Lives Matter) جیسی تحریکوں کا چیمپیئن بنتا ہے، اس کی ملٹی نیشنل کمپنیاں جب تیسری دنیا کے ممالک اور ایشیا و افریقہ کا رخ کرتی ہیں تو ان کا سارا فلسفہ بدل جاتا ہے۔ یہاں وہ انسانی وقار کو گوری اور کالی چمڑی کے ترازو میں تول کر اپنی مصنوعات کی فروخت بڑھاتی ہیں۔ یہ تضاد اس وقت واضح ہوتا ہے جب یہی عالمی برانڈز اپنے ملکوں میں تنوع (Diversity) کی مالا جپتے ہیں، مگر ہمارے ہاں ان کے اشتہارات کا پورا بیانیہ یہ ہوتا ہے کہ اگر آپ کا رنگ گورا نہیں ہے اور آپ سانولے یا کالے ہیں تو آپ کی زندگی بے کار ہے، نہ آپ کو نوکری ملے گی، نہ سماج میں عزت اور نہ ہی کوئی آپ کو منہ لگائے گا۔
اس منافقت کا پوسٹ مارٹم کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ مغرب نے گورے اور کالے کے اس تاریخی تفاوت کو ختم نہیں کیا بلکہ اسے "کمرشلائز” کر کے اس سے اربوں ڈالر کمانا شروع کر دیے ہیں۔ ایک طرف وہ قانون سازی کرتے ہیں کہ کسی کو اس کی سیاہ یا گندمی رنگت کی بنیاد پر حقیر نہ سمجھا جائے، لیکن دوسری طرف انہی کے سرمائے پر چلنے والے بیوٹی برانڈز ایسے اشتہارات بناتے ہیں جہاں ایک سانولی یا سیاہ فام لڑکی کو تب تک ناکام، پسماندہ اور مظلوم دکھایا جاتا ہے جب تک وہ ان کی کریم استعمال کر کے سفید فام نظر نہیں آنے لگتی۔ یہ تضاد ثابت کرتا ہے کہ ان کے نزدیک انسانی حقوق کا مطلب صرف گوروں کی بالادستی کو برقرار رکھنا ہے، ورنہ معاشی فائدہ سمیٹنے کے لیے وہ کسی بھی غیر سفید فام قوم کو احساسِ کمتری کی گہری کھائی میں دھکیلنے سے گریز نہیں کرتے۔ ان کمپنیوں نے "گوری چمڑی” کو کامیابی کی ایسی ناگزیر شرط بنا کر پیش کیا ہے کہ آج کی نسل اپنی اصل رنگت پر فخر کرنے کے بجائے مغربی معیارِ حسن کی اندھی نقالی میں اپنی روح زخمی کر رہی ہے۔
یہ اشتہارات دراصل ایک نیا سفید فام استعماری نظام ہیں جہاں اب ملکوں کو تلوار سے نہیں بلکہ "احساسِ کمتری” سے فتح کیا جاتا ہے اور کالے یا سانولے رنگ کے انسان کو یہ باور کرایا جاتا ہے کہ وہ پیدائشی طور پر ادھورا ہے۔ جب کوئی کریم یہ دعویٰ کرتی ہے کہ وہ آپ کی دنیا بدل دے گی، تو وہ دراصل آپ کے فطری وجود اور خدا داد رنگت کی نفی کر رہی ہوتی ہے۔ مغرب کا یہ دوہرا معیار معاشرے میں ایک ایسی غیر مرئی تقسیم پیدا کر رہا ہے جہاں انسان اپنی محنت، قابلیت اور کردار کے بجائے اس بنیاد پر پرکھا جا رہا ہے کہ اس کی چمڑی کس حد تک گوری ہے۔ یہ مغربی تاجر ہمیں یہ یقین دلاتے ہیں کہ عزت اور وقار بازار میں دستیاب ان ٹیوبز اور لوشنز میں بند ہے جو کالی چمڑی کو گورا کرنے کا جھوٹا دعویٰ کرتی ہیں، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ صرف ان کی تجوریوں کو بھرنے کا ایک انتہائی گھناؤنا اور نسلی امتیاز پر مبنی طریقہ ہے۔
خلاصہ یہ کہ مغرب کا انسانیت پسندی اور مساوات کا نعرہ ایک کھوکھلا ملمع ہے جس کے نیچے خالص مادہ پرستی اور گوری چمڑی کی برتری کا خبط چھپا ہے۔ اگر وہ واقعی گورے اور کالے کے فرق کے خلاف ہوتے تو ان کی کمپنیاں افریقہ اور ایشیا میں "رنگ گورا کرنے” کی دوڑ نہ لگاتییں اور نہ ہی کروڑوں انسانوں کو یہ احساس دلاتیں کہ ان کا فطری رنگ ان کی ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ یہ وقت کا تقاضا ہے کہ ہم ان کے اس فکری اور نسلی حملے کو پہچانیں اور یہ سمجھیں کہ عظمتِ انسانی کسی کریم یا لوشن کی محتاج نہیں، بلکہ یہ خدا کی عطا کردہ انفرادی صلاحیتوں اور خودداری میں پوشیدہ ہے۔ ہمیں اس غلامانہ ذہنیت سے نکلنا ہوگا جو مغرب کے تخلیق کردہ ان مصنوعی بتوں کی پوجا کرتی ہے، کیونکہ اصل کامیابی اپنی حقیقت اور اپنی رنگت کو پہچاننے اور اس پر فخر کرنے میں ہے، نہ کہ کسی مغربی برانڈ کے سحر میں مبتلا ہو کر اپنی پہچان کھو دینے میں۔

پروفیسر اکرم ثاقب