Lانسان بڑی عجیب مخلوق ہے۔
بارش نہ ہو تو آسمان کو کوستا ہے۔
زیادہ ہو جائے تو چھت کو۔
بجلی نہ آئے تو حکومت بُری۔
آ جائے تو بِل بُرا۔
یوں لگتا ہے جیسے ناشکری ہماری قومی نہیں، انسانی عادت ہے۔
انسان کی مثال اُس بچے جیسی ہے جسے کھلونا چاہیے۔
کھلونا مل جائے تو نیا چاہیے۔
اور نیا مل جائے تو دوسرے کا اچھا لگنے لگتا ہے۔
دل کا پیٹ کبھی نہیں بھرتا۔
یہ وہ کنواں ہے جس میں خواہشوں کی بالٹی ہمیشہ خالی نکلتی ہے۔
ایک بزرگ نے کہا تھا:
"انسان کو اگر سونے کا پہاڑ مل جائے تو وہ اس پر چڑھ کر چاند مانگے گا۔”
یہی اصل مسئلہ ہے۔
ہم نعمت گنتے نہیں، خامیوں کا رجسٹر کھول لیتے ہیں۔
کسی کے پاس سائیکل ہو تو موٹر سائیکل کا غم۔
موٹر سائیکل والے کو گاڑی کا بخار۔
گاڑی والے کو بڑی گاڑی کی خارش۔
اور بڑی گاڑی والا کہتا ہے: "سکون نہیں ہے۔”
گویا سکون اب کسی شو روم میں قسطوں پر ملتا ہے۔
محاورہ ہے، "اونٹ کے منہ میں زیرہ۔”
انسان کی خواہش بھی ایسی ہی ہے۔
دُنیا بھر کی نعمتیں بھی اس کے دل کے سامنے زیرہ لگتی ہیں۔
ہمارے ہاں ایک عجیب رسم ہے۔
آدمی دو وقت کی روٹی کھا کر بھی کہتا ہے، "بس گزارا ہو رہا ہے۔”
پھر وہی آدمی شادی میں پانچ پلیٹیں بھر کر کھاتا ہے۔
ناشکری کا پیٹ اور دعوت کا پیٹ الگ الگ ہوتا ہے۔
حضرت علیؓ سے منسوب قول ہے:
"نعمت کی بقا شکر سے ہے۔”
لیکن ہم شکر ایسے کرتے ہیں جیسے بینک سے قرض واپس کر رہے ہوں۔
زبان سے "الحمدللہ”ایسے نکلتا ہے جیسے ابھی دُنیا ختم ہوئی ہے۔
ہمارا حال یہ ہے کہ
پنکھے کے نیچے بیٹھ کر گرمی کو گالیاں دیتے ہیں۔
ہیٹر کے سامنے سردی کواور دفتر میں بیٹھ کر نوکری کو۔
بے روزگار آدمی ہمیں دیکھ کر سوچتا ہے:
"یہ بندہ ناشکری میں پی ایچ۔ ڈی کیے بیٹھا ہے۔”
سوشل میڈیا نے ناشکری کو مزید جوان کر دیا ہے۔
پہلے آدمی اپنے محلے سے جلتا تھا۔
اب پوری دُنیا سے جلتا ہے۔
اِدھر کسی نے دبئی کی تصویر لگائی۔
اُدھر ہمارا دل اپنے کمرے کی دیواروں سے بدظن ہو گیا۔
ایک زمانہ تھا۔
لوگ خشک روٹی کھا کر بھی خوش تھے۔
اب پیزا کھا کر کہتے ہیں:
"مزہ نہیں آیا۔”
اس میں شک نہیں کہ ترقی ہوئی ہے۔
مگر شُکر پیچھے رہ گیا ہے۔
محاورہ ہے:”چراغ تلے اندھیرا۔”
انسان کے ساتھ بھی یہی ہے۔
اس کے پاس صحت، گھر، ماں باپ، اولاد، دوست سب ہوتے ہیں۔
لیکن وہ ایک کمی پر ایسا روتا ہے جیسے دُنیا اُجڑ گئی ہو۔
ایک فقیر سے کسی نے پوچھا:
"تم ہمیشہ خوش کیوں رہتے ہو؟”
فقیر بولا:
"کیونکہ میں وہ نہیں گنتا جو میرے پاس نہیں۔”
بات چھوٹی تھی۔
مگر پورا فلسفہ رکھتی ہے۔
ناشکری کی ایک وجہ موازنہ بھی ہے۔
ہم اپنے دُکھ کا موازنہ کسی کے سُکھ سے کرتے ہیں۔
اپنے سُکھ کا کسی کے دُکھ سے نہیں کرتے۔
یہ ایسا ہی ہے جیسے آدمی اپنی ٹوٹی چپل دیکھ کر روئے،
مگر ننگے پاؤں والے کو نہ دیکھے۔
اقبالؒ نے کہا تھا:
"ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی”
لیکن ہم ایسی مٹی ہیں جو بارش میں بھی شکوہ کرتی ہے۔
کبھی حکومت بُری۔
کبھی قسمت بُری۔
کبھی موسم بُرا۔
اگر چائے ٹھنڈی ہو جائے تو زندگی بے معنی لگنے لگتی ہے۔
ایک صاحب ہر وقت شکایت کرتے تھے۔
کہتے تھے:”میرے پاس کچھ نہیں۔”
دوست نے پوچھا: "گُردے بیچ دو گے؟”
کہنے لگے:”ہرگز نہیں!”
دوست بولا:”پھر کروڑوں کی چیزیں لے کر بھی فقیر بنے بیٹھے ہو؟”
اصل میں انسان عادت کا غلام ہے۔
نعمت ملتے ہی اس کا مزہ ختم ہو جاتا ہے۔
نئی چیز چند دن بعد پرانی لگتی ہے۔
اسی لیے دل پھر نئی خواہش پیدا کر لیتا ہے۔
یہ خواہشوں کی وہ ٹرین ہے جس کا آخری اسٹیشن قبرستان ہے۔
مرزا غالب نے کہا ہے:
"ہر ایک بات پہ کہتے ہو تم کہ تو کیا ہے
تمہی کہو کہ یہ اندازِ گفتگو کیا ہے”
ہماری ناشکری بھی کچھ ایسی ہی ہے۔
جو مل جائے، اس کی قدر نہیں۔
اورجو نہ ملے، اس کا ماتم۔
حالانکہ شکر صرف مذہبی حکم نہیں۔
نفسیاتی سکون بھی ہے۔
جو شکر گزار ہوتا ہے، وہ کم چیزوں میں بھی خوش رہتا ہے۔
اس کے چہرے پر اطمینان ہوتا ہے۔
اور جو ناشکرا ہو، وہ محل میں بھی بے سکون رہتا ہے۔
زندگی چائے کے کپ جیسی ہے۔
کبھی میٹھی۔
کبھی پھیکی۔
پینے والا اگر ہر گھونٹ پر شکایت کرے تو چائے بھی ناراض ہو جاتی ہے۔
اس لیے کبھی رُک کر اپنے پاس موجود نعمتیں گنیے۔
سانس چل رہی ہے۔
آنکھیں دیکھ رہی ہیں۔
پاؤں ساتھ دے رہے ہیں۔
یہ سب نعمتیں ہیں۔
ورنہ ہسپتال جا کر معلوم ہوتا ہے کہ ایک سانس کتنی قیمتی ہوتی ہے۔
ناشکری انسان کو اندر سے کھوکھلا کر دیتی ہے۔
شکر دل کو نرم کرتا ہے۔
اور نرم دل انسان ہی سکون پاتا ہے۔
یاد رکھیے:
زندگی ہمیشہ مکمل نہیں ہوتی۔
لیکن نعمتوں سے خالی بھی نہیں ہوتی۔
جو شخص کانٹوں میں بھی پھول دیکھ لے، وہی خوش رہتا ہے۔
محسن خالد محسنؔ