وہ جانتا ہے کہ میں دشت کا مسافر ہوں

شاہین فصیح ربانی کی ایک اردو غزل

وہ جانتا ہے کہ میں دشت کا مسافر ہوں
اور اس پہ یہ بھی کہ بھٹکا ہوا مسافر ہوں

کسی کو دیکھ کے رفتار سست پڑ گئی ہے
یہ دکھ ہوا ہے کہ میں دوسرا مسافر ہوں

مرے سفر میں کوئی خاص بات کیا ہو گی
سو لکھ رہا ہوں کہ میں عام سا مسافر ہوں

وہ رکھ کے پہلا قدم جادہء حقیقت میں
سمجھ رہا ہے کہ میں بھی نیا مسافر ہوں

یہ راستہ مرا ہر ہر قدم سمجھتا ہے
یہی بتائے گا، کیا میں برا مسافر ہوں

اِدھر اُدھر کی ہواؤں سے وار کرتی ہے
خزاں کو دکھ ہے کہ میں کیوں ہرا مسافر ہوں

کبھی گمان کہ ساکت ہوں اک مقام پہ میں
کبھی یقین کہ میں دوڑتا مسافر ہوں

یہ راستے ہیں، یہ اپنے اصول رکھتے ہیں
بلا سے ان کی جو میں سرپھرا مسافر ہوں

فصیح آپ حقیقت کی بات کرتے ہیں
سو بچ رہا ہوں کہ میں خواب کا مسافر ہوں

شاہین فصیح ربانی

شاہین فصیح ربانی

اصل نام شعیب ربانی - قلمی نام شاہین فصیحؔ ربانی - تاریخ پیدائش 13۔ اپریل 1965ء - جائے پیدائش: دینہ - تعلیم: ایم اے اردو، کراچی یونیورسٹی - شعری مجموعے - کوئی خواب ہمارا ہو (اردو پنجابی ماہیے) 2002ء - اگلے پَل کی طرف (غزلیات) 2006ء -