وہ جانتا ہے کہ میں دشت کا مسافر ہوں
اور اس پہ یہ بھی کہ بھٹکا ہوا مسافر ہوں
کسی کو دیکھ کے رفتار سست پڑ گئی ہے
یہ دکھ ہوا ہے کہ میں دوسرا مسافر ہوں
مرے سفر میں کوئی خاص بات کیا ہو گی
سو لکھ رہا ہوں کہ میں عام سا مسافر ہوں
وہ رکھ کے پہلا قدم جادہء حقیقت میں
سمجھ رہا ہے کہ میں بھی نیا مسافر ہوں
یہ راستہ مرا ہر ہر قدم سمجھتا ہے
یہی بتائے گا، کیا میں برا مسافر ہوں
اِدھر اُدھر کی ہواؤں سے وار کرتی ہے
خزاں کو دکھ ہے کہ میں کیوں ہرا مسافر ہوں
کبھی گمان کہ ساکت ہوں اک مقام پہ میں
کبھی یقین کہ میں دوڑتا مسافر ہوں
یہ راستے ہیں، یہ اپنے اصول رکھتے ہیں
بلا سے ان کی جو میں سرپھرا مسافر ہوں
فصیح آپ حقیقت کی بات کرتے ہیں
سو بچ رہا ہوں کہ میں خواب کا مسافر ہوں
شاہین فصیح ربانی